The news is by your side.

Advertisement

امرت کور

تقسیم کی ادھوری کہانی – امرت کور

میں نے فون ایک طرف رکھ دیااور کافی دیر تک اپنے بیڈ پر پڑا آنے والے حالات کے بارے میں سوچتا رہا۔ پھر اٹھ کر تیار ہونے لگا۔ جیسے تیسے اب شاہ اور مسز شاہ سے ملنا تو تھا۔ تیار ہوتے ہوئے مجھے خیال آیا کہ ماما اور پاپا میری اس بات پر اتنا پریشان…

تقسیم کی ادھوری کہانی – امرت کور

ہم دس بجے کے قریب گھر سے نکل کھڑے ہوئے۔ گاڑیوں کا ایک قافلہ تھا جو ہمارے گھر کے سامنے سے نکلا۔ زویا اور اس کے والدین بھی آگئے ہوئے تھے۔ اسٹیشن پر پہنچے تو گاڑی پلیٹ فارم پر لگی ہوئی تھی۔ کئی دوسرے سکھ یاتری بھی اس میں بیٹھ رہے تھے۔ بھان اور…

تقسیم کی ادھوری کہانی – امرت کور

یہ کہتے ہوئے میں نے دا دا جی کے چہرے پر دیکھا۔ وہ سرخ تھا۔ اس وقت میں قطعاً یہ اندازہ نہیں لگا سکتا تھا ، ان کے چہرے پر یہ سرخی کس طرح کے جذبات کی وجہ سے ہے، محبت کا کوئی اثر تھا یا نفرت کے باعث،وہ اپنے سامان سمیت ہماری طرف بڑھ آئے تھے۔ سب…

تقسیم کی ادھوری کہانی – امرت کور

میں نے واہگہ بارڈر کراس کیا اور پاکستان کی سر زمین پر آگیا۔ ضروری کارروائی کے بعد جب میں سامان لے کر نکلا تو زویا میرے انتظار میں تھی۔ مجھے دیکھتے ہی والہانہ انداز میں میری طرف بڑھی اور اپنے جذبات کی شدت میرے ہاتھ بھینچ کر کی۔میں نے رات…

تقسیم کی ادھوری کہانی – امرت کور

”میں تیرے دادا نور محمد کی نگاہیں آج تک نہیں بھول سکی۔پچاس سال ہونے کو آگئے ہیں مگر وہ نگاہیں آج بھی میرے سامنے ویسی ہی ہیں۔ آج صبح میں نے اس نفرت کی جھلک تیری آنکھوں میں دیکھی تو لگا کہ نور محمد دوبارہ آگیا ہے۔ اتنے برس بعد میں نے محسوس…

تقسیم کی ادھوری کہانی – امرت کور

امرت کور کا عشق جنونی کیفیت اختیار کرتا چلا جارہا تھا۔ گاؤں کی لڑکیوں کو تو اس کے بارے میں معلوم ہوتا ہی چلا جارہا تھا، لیکن انہی دنوں اس کی عزیز ترین سہیلی پرونت کور اسی وجہ سے ناراض ہو گئی کہ وہ اس راہ پر جارہی ہے جہاں تباہی کے سوا کچھ…

تقسیم کی ادھوری کہانی – امرت کور

دادی پرونت کور نے اپنی بات ختم کی تو میرے دل میں امرت کور کے لیے نفرت ابل پڑی۔ مگر میں ایک لفظ بھی اپنی زبان پر نہ لایا۔ میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ میں جس پاگل عورت سے ملنے کے لیے یہاں جتھوال میں آیا تھا، اس کے دل میں اٹھنے والی ہوس کی آگ…

تقسیم کی ادھوری کہانی – امرت کور

”نہ پتُر، تُو اتنا پریشان نہ ہو، تو ایسا کر چل میرے کمرے میں، میں تیری ساری الجھن دور کر دیتی ہوں“۔ دادی پرونت کور نے کہا تو میں اپنے آپ میں آیا۔ وہ جو میرے دل و دماغ میں کھٹک رہا تھا کہ اس میں کوئی راز ہے ضرور ممکن ہے وہ سامنے آجانے کا وقت…

تقسیم کی ادھوری کہانی – امرت کور

”بھان....! وہ سنت ہے، سادھو ہے، گیانی ہے یا درویش .... جو کچھ بھی تم اسے کہہ لو، وہ کچھ ہے ایسی ہی چیز“۔ میں نے کچھ کچھ سمجھتے ہوئے امرت کور پر تبصرہ کیا۔ ہم دونوں حویلی کے درمیان میں آبیٹھے تھے اور ملازم سے چائے لانے کا کہہ کر وہیں باتیں…

تقسیم کی ادھوری کہانی – امرت کور

وہ اپریل کے آخری دن کی ایک صبح تھی ۔ جب میں اور بھان سنگھ امرتسر ایئر پورٹ سے ضروری کاغذی کارروائی کے بعد باہر آئے۔ ہم ائیر پورٹ عمارت میں کھڑے تھے اور سامان کا انتظار کر رہے تھے۔ وہاں ہر طرف مختلف رنگوں کی پگڑیوں والے سنگھ حضرات دیکھ کر…