The news is by your side.

Advertisement

بھارت میں متعدد گائے کے ساتھ جنسی زیادتی کرنے والا ملزم گرفتار

نئی دہلی : بھارتی شہر ایودھیا میں بھارتی شہری نے درندگی کو بھی مات دے دی، راج کمار کو آشرم کے ملازمین نے باڑے میں گائے کے ساتھ جنسی زیادتی کرتے دیکھا تھا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق بھارتی ریاست اتر پردیش میں انتہائی شرمناک اور چوکا دینے والا واقعہ آیا، جہاں ہندوؤں کے لیے بھگوان کا درجہ رکھنے والے جانور گائے کے ساتھ شہر ایودھیا جنسی درندے نے سات گائے کو بھی حیوانیت کا نشانہ بنا ڈالا۔

غیر ملکی میڈیا کا کہنا ہے کہ متاثرہ ساتوں گائے گاؤں کے کرتالیہ بابا آشرم کی ملکیت ہیں جس کے رضاکاروں اور ملازمین نے گائے کے ساتھ جنسی زیادتی کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑا ہے۔

آشرم کے رضاکاروں کا کہنا ہے کہ ’راج کمار نامی ملزم کو اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ گائے کا ریپ کرنے کےلیے دوبارہ باڑے میں واپس آیا۔

بھارتی میڈیا کا کہنا تھا کہ آشرم کے ملازمین نے سی سی ٹی وی فوٹیج کے دوران ایک شخص کو گائے کے ساتھ نامناسب فعل انجام دیتے دیکھا تھا جس کے بعد وہ مذکورہ شخص کی نگرانی کررہے تھے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق ایودھیا پولیس نے ملزم کو گرفتار کرلیا ہے، ایودھیا کے ایس ایس پی کا کہنا تھا کہ ملزم کو بھارتی انڈین کوڈ میں جانوروں کے ساتھ بدسلوکی دفعات 376 اور 511 تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

مقامی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ آشرم کے ملازمین نے ملزم نے پکڑنے کے بعد تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد پولیس کے حوالے کیا تھا۔

دوسری جانب یو پی کے علاقے گونڈہ سے تعلق رکھنے والے ملزم راج کمار کا کہنا تھا کہ جس وقت گائے کے ساتھ مذکورہ فعل انجام دیا اس وقت نشے کی حالت میں تھا۔

واضح رہے کہ بھارت میں جانوروں کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات کوئی نئی بات نہیں اس سے قبل بھی جانوروں کو بد فعلی کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

مزید پڑھیں : بھارت میں گائے جنسی زیادتی کا شکار، مقدمہ درج

یاد رہے کہ گزشتہ برس نومبر چار نے ایک کتے کو مشترکا طور پر جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا تھا جبکہ دسمبر 2018 میں ریاست آندھرا پردیش میں متعدد افراد نے تین ماہ کی حاملہ گائے کو گینگ ریپ کا نشانہ بنایا تھا۔

مزید پڑھیں : مرغی سے جنسی زیادتی کرنے والا نوجوان گرفتار

خیال رہے کہ گزشتہ برس پنجاب پولیس نےا یک 14 سالہ  نوجوان کو مرغی کے ساتھ جنسی زیادتی اور اسے قتل کرنے کے جرم میں گرفتار کیا تھا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں