بدھ, جون 17, 2026
اشتہار

بھارتی آرمی آرڈننس کور کا کرنل 50 لاکھ رشوت کے کیس میں گرفتار

اشتہار

حیرت انگیز

بھارتی سینٹرل بیوروآف انوسٹی گیشن نے کولکتہ میں آرمی آرڈننس کور کے کرنل کو 50 لاکھ رشوت کے کیس میں گرفتار کر لیا۔

تفصیلات کے مطابق رشوت خوری، بدعنوانی اور سنگین مالی جرائم میں پیش پیش بھارتی فوج کا گھناؤنا اور غیر پیشہ ورانہ کردار ایک بار پھر دنیا کے سامنے بے نقاب ہو گیا۔

بھارت کے اپنے معتبر جریدے "ہندوستان ٹائمز” نے سیاست زدہ بھارتی فوج میں جاری منظم کرپشن اور اخلاقی و ادارہ جاتی پستی کا پردہ چاک کر دیا ہے، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ بھارتی فوج کے اعلیٰ افسران کس طرح ملکی دفاع کی قیمت پر ذاتی تجوریاں بھرنے میں مصروف ہیں۔

"ہندوستان ٹائمز” کی رپورٹ میں بتایا کہ بھارتی سینٹرل بیورو آف انوسٹی گیشن نے کولکتہ میں ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے آرمی آرڈننس کور کے ایک اعلیٰ افسر کو لاکھوں روپے کی رشوت لیتے ہوئے گرفتار کر لیا ہے۔

گرفتار فوجی افسر کرنل ہمانشو بالی آرمی آرڈننس کور ایسٹرن کمانڈ کولکتہ میں تعینات تھا، جس نے کانپور کی ایک نجی کمپنی سے 50 لاکھ روپے کی بھاری رشوت لی۔

بھارتی کرنل ہمانشو بالی کو کولکتہ سے انسدادِ بدعنوانی ایکٹ کے تحت حراست میں لے کر مزید تفتیش کے لیے نئی دہلی منتقل کر دیا گیا ہے۔

درج کی گئی ایف آئی آر کے مطابق کرنل ہمانشو بالی اور دیگر فوجی افسران نے باہمی ملی بھگت سے متعدد اہم فوجی ٹینڈرز بھاری رشوت کے عوض من پسند کمپنیوں کو دیے، جس سے بھارتی دفاعی نظام میں بڑے پیمانے پر خرد برد کا انکشاف ہوا ہے۔

اس ہائی پروفائل گرفتاری پر ردِعمل دیتے ہوئے دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ مودی سرکار کے دور میں سیاست زدہ ہونے والی بھارتی فوج میں بڑھتی ہوئی بے ضابطگیاں اور کرپشن اس کی نااہلی اور پیشہ ورانہ پستی کی واضح علامت بن چکی ہیں۔

"بھارتی افواج میں کرپشن، بالخصوص بھارتی فضائیہ کے طیاروں کے بڑھتے ہوئے حادثات محض تکنیکی مسائل نہیں، بلکہ یہ اسی جڑیں پکڑتی بدعنوانی اور انتظامی ناکامیوں کا واضح ثبوت ہیں جہاں معیار پر سمجھوتہ کیا جاتا ہے۔”

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مسلسل بڑھتی ہوئی کرپشن، مالیاتی سکینڈلز اور اقربا پروری کے باعث بھارتی افواج اس وقت شدید اندرونی خلفشار، بداعتمادی اور تقسیم کا شکار ہو چکی ہے، جس نے نام نہاد "پیشہ ورانہ فوج” کے غبارے سے ہوا نکال دی ہے۔

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں