مردم شماری 2017، انفرادیت، طریقہ کار اور اہداف census-2017
The news is by your side.

Advertisement

مردم شماری 2017، انفرادیت، طریقہ کار اور اہداف

اسلام آباد : ملک میں انیس سالوں بعد مردم شماری کے لیے کچھ غیر معمولی اقدامات کیے گئے ہیں اس مردم شماری سے ملک میں مقیم شہریوں کی درست تعداد ہی معلوم نہیں ہو سکے گی بلکہ مختلف زبانیں، قومیتیں، عمر اور جنس کا ریکارڈ بھی مرتب ہوجائے گا۔

تفصیلات کے مطابق ملک بھر میں انیس سال بعد مردم شماری 15 مارچ کو ہونے جاری ہے جس کے لیے جہاں پاک فوج سے شفاف اور محفوظ مردم شماری کے عمل کے سلسلے میں مدد مانگی گئی ہے وہیں کچھ غیرمعمولی اقدامات بھی کیے گئے ہیں جو اس سے قبل ہونے والی مردم شماری کا حصہ نہیں تھے۔

تیسری جنس کا اندراج

اس مرتبہ ہونے والی مردم شماری میں ملک کی تاریخ میں پہلی بار تیسری جنس سے تعلق رکھنے افراد کا بھی ڈیٹا جمع کیا جائے گا تاہم یہ ڈیٹا مردم شماری کے فارم میں شامل نہیں بلکہ اس کے لیے علیحدہ سے فارم بھرنا ہوگا۔

transgenders

نو زبانوں کا اندراج ہوگا

یوں تو ملک میں 70 کے قریب علاقائی اور مادری زبانیں بولی جاتی ہیں لیکن مردم شماری کے فارم میں ان میں سے سب سے زیادہ بولی جانے والی نو زبانوں کو فارم کا حصہ بنایا گیا ہے جس سے معلوم چل سکے گا ملک میں بولی جانے والی زبانوں کی تعداد کیا ہے اور کتنے لوگ اس زبان میں بات کرتے ہیں۔

language

مذہبی اقلیتوں کا اندراج

مردم شماری میں جہاں جنس، عمر، زبان اور قومیتیوں کا اندراج ہوگا وہیں پاکستان میں مقیم مذہبی اقلیتیوں کا بھی اندراج کیا جائے گا جس سے ملک میں موجود مذہبی اقلیتوں جیسے ہندو، عیسائی اور دیگرمذہب کے ماننے والے افراد کی درست تعداد کا علم ہو سکے گا۔

christian

قومیتیں

مردم شماری میں قومیت کے حوالےسے دو خانے شامل ہیں جس میں اندراج کرانے سے ملک میں موجود غیر ملکی افراد کی درست تعداد کا تعین کیا جاتا ہے اس حوالے سے کچھ زیلی فارم بھی بھروائے جائیں گے۔

afghani

یاد رہے کہ آئین کی رو سے ملک میں ہر دس بعد خانہ شماری اور مردم شماری کرائی جانی چاہیے تاہم پاکستان میں سیاسی مصلحتوں کے باعث یہ عمل ہمیشہ تعطل کا شکار ہی رہا ہے 15 مارچ سے شروع ہونے والی یہ مردم شماری بھی 19 سال بعد ہونے جا رہی ہے۔

ماہرین کے مطابق دیر آید درست آید کے مصداق مردم شماری کو خوش آمدید کہنا چاہیے اور ماضی کے بجائے مستقبل کی جانب دیکھتے ہوئے صاف، شفاف اور محفوظ مردم شماری کے لیے تونائیں صرف کرنا چاہیے کیوں کہ قوموں میں اجتماعی زندگی میں درست مردم شماری تعمیر و ترقی کا ضامن ثابت ہوتی ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں