site
stats
پاکستان

مردم شماری کے دوران کوئی اعتراض سامنے نہیں آیا، کامران مائیکل

اسلام آباد : وفاقی وزیر شماریات کامران مائیکل نے کہا ہے مردم شماری کے دوران کہیں سے کوئی اعتراض سامنے نہیں آیا، سندھ سمیت کسی بھی صوبے کو اعتراض ہے تو وہ مشترکہ مفادات کونسل میں لائے، آئندہ الیکشن اور این ایف سی ایوارڈ کا تعین ان ہی نتائج کی بنیاد پرہوگا۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے سیکریٹری شماریات آصف باجوہ کے ہمراہ اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا، کامران مائیکل نے کہا کہ سی سی آئی آئینی فورم ہےجو صوبوں کے معاملات طےکرتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بتایا جائے کہ مردم شماری میں سندھ کی سیاسی جماعتوں کو کس چیز پر اعتراض ہے، وہ اپنی شکایات مشترکہ مفادات کونسل میں پیش کریں، سی سی آئی میں معاملات خوش اسلوبی سےحل کیے جاتے ہیں، سی سی آئی جو ہدایت دے گی اس پر عمل کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ آئندہ الیکشن اور این ایف سی ایوارڈ کا تعین ان ہی نتائج کی بنیاد پرہوگا۔ کامران مائیکل کا مزید کہنا تھا کہ پاک فوج سے مل کر مردم شماری کی گئی، نتائج بھی سامنے لائے، ایک گھر میں اگر تین چولہے جلتےہیں تو مردم شماری میں انہیں تین خاندان ظاہرکیا گیا ہے۔

وزیرشماریات کا مزید کہنا تھا کہ پارلیمنٹ موجود ہے،احتجاج یاریلیاں نکال کراداروں کو بدنام نہ کیا جائے۔ اس موقع پر سیکریٹری شماریات آصف باجوہ نے کہا کہ نئے رولز کے معاملات کو بھی دیکھ رہے ہیں اس کو تکنیکی کمیٹی کے پاس لے کرجائیں گے۔


مزید پڑھیں: سندھ کی جماعتوں نے مردم شماری کے نتائج مسترد کردیئے


واضح رہے کہ اراکین پارلیمنٹیرین کی اکثریت نے مردم شماری کے نتائج مسترد کرتے ہوئے دوبارہ گنتی کا مطالبہ کیا ہے۔ اس حوالے سے شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ جلد بازی کے بجائے تفصیلی رپورٹ کا انتظار کیا جانا چاہیئے۔

علاوہ ازیں پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر ایم کیوایم پاکستان نے مردم شماری کے خلاف احتجاج کیا، ایم کیوایم پاکستان کے ارکین پارلیمنٹ نےنعرے لگائے۔


مزید پڑھیں: خواجہ سراؤں نے بھی مردم شماری کے نتائج مسترد کردیئے 


مظاہرین کا کہنا تھا کہ سندھ کے شہریوں کی آبادی کم کرنا منظور نہیں، ایم کیوایم نے مردم شماری کے نتائج کیخلاف قرارداد بھی جمع کرادی جس میں کہا گیا ہے کہ مردم شماری کےنتائج پرسندھ کی عوام میں تشویش ہے۔


مزید پڑھیں: ایم کیوایم پاکستان مردم شماری کے خلاف ریلی نکالےگی


ان کا کہنا تھا کہ نتائج میں دھاندلی کی گئی جسے سندھ کی تمام سیاسی جماعتوں نےمسترد کیا، نتائج پرشکوک و شبہات ہیں اسےاسمبلی میں بحث کے لیے لیا جانا چاہئیے۔ آبادی کو کم دکھا کر وسائل کی تقسیم کے خطرناک نتائج برآمد ہوں گے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top