site
stats
اہم ترین

مردم شماری: غلط معلومات دینے پر قید و جرمانہ ہوگا، مریم اورنگزیب، آصف غفور

اسلام آباد : ملک میں ہونے والی مردم شماری کے حوالے سے ڈی جی آئی ایس پی آر اور وزیرمملکت اطلاعات و نشریات نے مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کیا، جس میں انہوں نے میڈیا کو مردم شماری سے متعلق تفصیلات سے آگاہ کیا۔

 وفاقی وزیرمملکت برائے اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب اور ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ مردم شماری میں غلط معلومات فراہم کرنے والوں کو قید و جرمانے کی سزا دی جائے گی۔ مردم شماری کیلئے پاک فوج کی تیاری مکمل ہے۔


Whoever will give wrong information during… by arynews

مردم شماری کے حوالے سے دیگر تفصیلات بتاتے ہوئے مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ مشترکہ مفادات کونسل میں مردم شماری کرانےپراتفاق رائےہوا، ملک میں  1998 کے بعد اب 15 مارچ 2017 سے مردم شماری ہونے جارہی ہے، مردم شماری کا عمل 15 مار چ سے 25 مئی تک جاری رہے گا، شہری مردم شماری کی معلومات 080057574 پر حاصل کرسکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ غلط ڈیٹا دینے والےپر 50 ہزارروپے جرمانہ اور6 ماہ کی سزاہوگی، مریم اورنگزیب نے کہا کہ حکومت کاوژن ہے کہ صحیح اعداد و شمار کے ساتھ فیصلے کئے جائیں، ماضی میں مردم شماری میں تاخیر کی مختلف وجوہات درپیش رہیں، مردم شماری کےانعقادمیں پاک فوج کاکردارکلیدی اہمیت کاحامل ہے، مردم شماری کیلئے18ارب روپےسےزائدکےاخراجات کاتخمینہ ہے۔

  ڈی جی آئی ایس پی آر میجرجنرل آصف غفور نے کہا کہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ فوج کی مدد سے مردم شماری کی جائے، 1998 کی مردم شماری میں 50 ہزارجوانوں نے حصہ لیا تھا، ملک میں اس بار2 فیز میں مردم شماری ہوگی۔

مزید پڑھیں : ملک بھرمیں مردم شماری کا اغاز بدھ سے ہوگا، تیاریاں مکمل

انہوں نے کہا کہ مردم شماری میں 2 لاکھ سے زائد فوجی جوان حصہ لیں گے، مردم شماری کیلئے پاک فوج کی تیاری مکمل ہے، شفاف مردم شماری کیلئے بھرپور سیکیورٹی دی جائےگی۔

غلط ڈیٹا دینے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی، ہربلاک میں ایک سویلین کے ساتھ ایک فوجی اہلکارموجود ہوگا، مردم شماری کے دوران امن وامان کو بھی برقرار رکھا جائیگا، فوجی اہلکارسویلین کےساتھ ہرگھر میں جائے گا۔ میجرجنرل آصف غفور نے بتایا کہ ماسٹرزٹرینرزسے عملےکی تربیت کرائی گئی ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top