کراچی (10 فروری 2026): سینٹرل جیل کراچی کے اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ نے نشے کی حالت میں شہریوں کو حبس بے جا میں رکھ کر تشدد کا نشانہ بنایا، اور ان سے رقم لوٹ کر معافی نامہ بھی لکھوا لیا۔
واقعے کا مقدمہ متاثرہ شہری محمد فراز جیلانی کی مدعیت میں نیو ٹاؤن تھانے میں درج کر لیا گیا ہے، مقدمے میں حبس بے جا میں رکھنے، جھگڑا کرنے، جان سے مارنے کی دھمکیاں دینے سمیت دیگر دفعات شامل کی گئی ہیں۔ آئی جی جیل خانہ جات نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ احسان مہر کو معطل کر دیا۔
مدعی مقدمہ نے بتایا ’’میں سینٹرل جیل کالونی میں رہائش پذیر اپنے رشتے دار سے ملنے گیا تھا، میرے دوست سید حسن، بصام قادر، محسن حسین، عباد راشد بھی مجھ سے ملنے وہاں آئے، اس دوران اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ احسان مہر نشے کی حالت میں مجھے اور میرے دوستوں کو مغلظات بکنے لگا۔‘‘

مدعی نے بتایا احسان مہر ہم سے جھگڑنے لگا اور سینٹرل جیل کی موبائل منگوا کر مجھے اور میرے دوستوں کو دھکے مارے، پھر احسان مہر اور دیگر افراد ہمیں اغوا کر کے اندرون جیل ایک کمرے میں لے گئے، اور وہاں موجود دیگر نامعلوم افراد نے ہم پر تشدد کیا۔
جھوٹی کال: جیولرز شاپ کے مالک نے 40 لاکھ کی ڈکیتی کا ڈراما کیوں رچایا؟
محمد فراز جیلانی نے بتایا ’’ہمارے موبائل فون زبردستی چھین لیے گئے، مجھ سے نقد 40 ہزار روپے بھی چھین لیے گئے، ہمیں منشیات اور اسلحے کے جھوٹے کیس میں بند کروانے اور جان سے مارنے کی دھمکیاں دی گئیں۔‘‘
مدعی نے یہ بھی بتایا کہ ان کی زبردستی ویڈیوز بنوائی گئیں اور ان سے زبردستی قبول کروایا گیا کہ وہ نشہ کرتے ہیں، پھر زبردستی معافی نامے پر انگوٹھا بھی لگوایا، اور بعد ازاں موبائل فون واپس کر کے چھوڑ دیا گیا، لیکن 40 ہزار رقم واپس نہیں کی۔
آئی جی جیل خانہ جات نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ احسان مہر کو معطل کر دیا ہے، احسان مہر کے خلاف محکمانہ انکوائری بھی کی جائے گی، جیل حکام کے مطابق ڈی آئی جی اسلم ملک واقعے کی انکوائری کر کے اعلیٰ حکام کو رپورٹ پیش کریں گے۔
افضل خان اے آر وائی نیوز سے وابستہ کرائم رپورٹر ہیں


