The news is by your side.

Advertisement

پی ٹی آئی 2نومبر دھرنا، وفاقی سیکریٹری داخلہ کا چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو خط

اسلام آباد : وفاقی سیکریٹری داخلہ نے چیف سیکریٹری خیبرپختونخوا کو خط لکھا ہے، خط میں کہا گیا ہے کہ وزارت داخلہ نے اسلام آباد میں کسی احتجاج کی اجازت نہیں دی، غیرقانونی جتھوں کے خلاف کارروائی صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے۔

تفصیلات کے مطابق پی ٹی آئی کے دو نومبر اسلام آباد دھرنے کے حوالے سے وفاقی سیکریٹری داخلہ نے چیف سیکریٹری خیبر پختو نخوا کو خط لکھا، جس میں وفاقی سیکرٹری داخلہ نے صوبائی حکومت سے کہا کہ صوبے کی حدود میں غیر قانونی اجتماعات کو روکنے کے لئے ضروری اقدامات کیے جائیں۔

خط میں مختلف انٹیلی جنس رپورٹوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ایک گروپ کا ارادہ اسلام آباد کو مفلوج اور شہریوں کو یرغمال بنانا ہے، ایسا کرنا قوانین اور امن وعامہ کی سنگین خلاف ورزی ہے، وزارت کی ایڈوائس سے صوبائی کابینہ اور وزیراعلیٰ کو آگاہ کیا جائیگا۔

خط میں مزید کہا گیا ہے کہ صوبے اور خیبر پختونخوا اسمبلی کے اراکین اور بعض وزراء اپنی سرکاری اور ذاتی مسلح گارڈز کے ساتھ ساتھ ان جلوسوں کی قیادت کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں تو یہ قانون اور امن عامہ کی ایک سنگین خلاف ورزی ہوگا۔

وزارتِ داخلہ نے خط میں خبردار کیا ہے کہ اسلام آباد میں کسی احتجاج کی اجازت نہیں دی، ایسے غیرقانونی جتھے کیخلاف کاروائی کے پی کے حکومت کی ذمہ داری ہے۔


مزید پڑھیں : دھرنے سے نمٹنے کے لیے حکومت کی حکمت عملی تیار


دوسری جانب حکومت نے دھرنے کے شرکا سے نمٹنے کیلئے پلان تیار کرلیا ہے، جس کے مطابق مختلف علاقوں میں پولیس اور فرنٹیئر کانسٹیبلری کے اہلکار تعینات ہوں گے،  حکومت نے پولیس کو ہدایت کردی کہ قیدیوں کو لے جانے والی گاڑیاں ساتھ لے کر جائیں جبکہ دھرنےوالوں سے نمٹنےکے لئے الگ الگ ٹیمیں علیحدہ گاڑیوں میں جائیں۔

پلان کے مطابق پولیس اور فرنٹیئرکانسٹیبلری کے اہلکاروں کو دو شفٹوں میں تعینات کیا جائے گا، اسلام آباد پولیس کو لاہور،ملتان، فیصل آباد، بہاولنگر پولیس کی مدد حاصل ہوگی، آزاد کشمیر سے بھی پولیس کے دستوں کو اسلام آباد بلایا گیا ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں