The news is by your side.

Advertisement

بحرین: صحرا میں سو سال سے تن تنہا کھڑا درخت معمہ بن گیا

مناما: بحرین کے صحرا میں سو برس سے کھڑا ایک درخت سب کے لیے حیرت اور تعجب کا باعث بنا ہوا ہے، یہ درخت ایک صدی سے زائد عرصے سے تن تنہا کھڑا ہے۔

تفصیلات کے مطابق اس بوڑھے درخت کی چاروں جانب صحرا ہی صحرا ہے اور آس پاس کوئی آبادی ہے اور نہ آب پاشی کا کوئی انتظام، نہ ہی یہاں کوئی دوسرا درخت موجود ہے۔

بحرین کے آثار و ثقافت کے محکمے کا کہنا ہے کہ یہ درخت ’شجرۃ الحیاۃ‘ یعنی شجرِ حیات کے نام سے مشہور ہے، اور یہ آب پاشی کے بغیر سو برس سے زائد عرصے سے یہاں کھڑا ہے۔

ایک بحرینی ٹورسٹ گائیڈ نے میڈیا کو بتایا کہ مقامی لوگ اس درخت کو زندگی کا درخت کہتے ہیں، اس کے آس پاس اس جیسے کسی درخت کا کوئی نام و نشان نہیں، بلکہ پورے علاقے میں اتنا بھاری بھر کم کوئی اور درخت نہیں۔

آثار قدیمہ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ یہاں تقریباً 4 سو برس قبل چھوٹے چھوٹے گھر ہوا کرتے تھے، پانی بھی تھا لیکن جب پانی کی قلت ہوئی تو مکین نقل مکانی کر گئے۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ اس درخت کے اطراف میں پانچ سو برس پرانی انسانی باقیات محفوظ ہیں، 2009 میں اس درخت کو دنیا کے سات نئے عجائبات میں شامل کرنے کی تجویز بھی سامنے آئی تھی۔

آثار قدیمہ کے مطابق یہ درخت العکاسیہ درختوں کی نسل کا ہے، اہل بحرین اسے شجرۃ العوسج کہتے ہیں، اور 16 ویں صدی عیسوی سے اس نسل کے درخت یہاں موجود ہیں، مقامی اور غیر ملکی سیاح جب اسے دیکھنے آتے ہیں تو بوتل میں پانی بھی لا کر درخت پر ڈالتے ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں