The news is by your side.

Advertisement

کرفیو کے باوجود سوڈان میں فوج کے کمانڈ ہیڈ کوارٹر کے باہر دھرنا جاری

خرطوم:سوڈان میں صدرعمر البشیر کی حکومت کا تختہ الٹے جانے، ان کی گرفتاری اور ملک میں رات کا کرفیو لگائے جانے کے باوجود ہزاروں افراد نے خرطوم میں فوج کے کمانڈ ہیڈ کوارٹر کے باہر دھرنا دیئے رکھا۔

تفصیلات کے مطابق سوڈان میں ان دنوں مارشل لا کے نفاذ کے سبب رات کے اوقات میں کرفیو نافذ کیا جارہے ، فوج نے کرفیو کی پابندی نہ کرنے والوں کو خطرناک نتائج سے بھی خبردار کیا گیا ہے۔

 سوڈان کی مسلح افواج کی طرف سے تمام شہریوں پر زور دیا گیاہے کہ وہ کرفیو کی پابندی یقینی بنائیں، فوج نے کرفیو کی پابندی نہ کرنے کے خطرناک نتائج سے پر بھی خبردار کیا گیا ہے،مسلح افواج کی طرف سے کرفیو کا اعلان شہریوں کی جان ومال کے تحفظ کے پیش نظر کیا گیا ہے، شہریوں کو احتجاج کا حق ہے مگر انہیں کرفیو کے اوقات میں اس کی پابندی کرنا ہوگی۔

عرب ٹی وی کے مطابق عینی شاہدین نے بتایاکہ مسلح فواج کی طرف سے رات کا کرفیو لگانے کے باوجود ہزاروں افراد کا دھرنا جاری رہا،عینی شاہدین نے بتایا کہ مظاہرین رات پر امن، انصاف اور آزادی کے نعرے لگاتے رہے. فوج کی طرف سے مظاہرین کو منتشر ہونے کے احکامات ملنے کے باوجود مظاہرین نے مسلسل چھٹی رات دھرنے میں گذاری۔

گذشتہ شام فوج کی طرف سے جاری ایک بیان میں مقامی وقت کے مطابق رات 10 بجے سے صبح 4 بجے تک کرفیو لگا دیا گیا تھا،سوڈان کی مسلح افواج کی طرف سے جاری بیان میں تمام شہریوں پر زور دیا گیا کہ وہ کرفیو کی پابندی یقینی بنائیں۔

یاد رہے کہ سوڈانی عوام گزشتہ تین مہینوں نے صدر عمر البشیر کے خلاف مظاہرے کررہے تھے جو آج رنگ لے آئے اور صدر عمر حسن البشیر صدارت سے مستعفی ہوگئے جس کے بعد انہیں فوج نے گرفتار کرکے نظر بند کردیا تھا اور وہ تاحال نظر بند ہیں۔

غیر ملکی میڈیا کا کہنا ہے کہ سوڈان میں فوج نے ملک کے انتظامی امور چلانے کے لیے جنرل عوض بن عوف کی سربراہی میں ایک عبوری کونسل تشکیل دے دی ہے، جنرل عوض سبک دوش ہونے والے صدر عمر البشیر کے نائب اول اور سوڈان کے وزیر دفاع ہیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں