The news is by your side.

Advertisement

میرا مخالف ہونے کی وجہ سے ایک شخص کو بار بار مختلف پارٹیوں والے ٹکٹ دے رہے ہیں، چوہدری نثار

انشاءاللہ اس بار مجھے ایک لاکھ 72 ہزار ووٹوں سے فتح ہوگی

راولپنڈی: چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ میرا مخالف ہونے کی وجہ سے ایک شخص کو بار بار مختلف پارٹیوں والے ٹکٹ دے رہے ہیں۔

وہ راولپنڈی میں کاچک بیلی میں جلسے سے خطاب کر رہے تھے، چوہدری نثار نے کہا کہ انشاءاللہ اس بار مجھے ایک لاکھ 72 ہزار ووٹوں سے فتح ہوگی۔

سابق وزیر داخلہ نے اپنے خطاب میں عوام کو مخاطب کر کے کہا کہ آپ کے پاس ایک شخص ٹیکسلا سے ووٹ لینےآئے گا جس کی کوالٹی بس اتنی ہے کہ وہ میرا مخالف ہے۔

چوہدری نثار کا کہنا تھا کہ اس شخص کو میرا مخالف ہونے کی وجہ سے پیپلز پارٹی نے وزیر بنایا، پھر میرا مخالف ہونے کی وجہ سے ہی مشرف نے اسے وزیر بنایا اور اب تحریک انصاف نے بھی اسے اسی لیے ٹکٹ دیا کیوں کہ وہ میرا مخالف ہے۔

خیال رہے کہ چوہدری نثار کا اشارہ ٹیکسلا کے غلام سرور خان کی طرف ہے جنھوں نے قومی اسمبلی کی سیٹ کے لیے راولپنڈی کے حلقے سے تین بار چوہدری نثار کے مقابلے میں شکست کھائی۔

چوہدری نثار نے جلسے کے شرکا سے کہا کہ یہ علاقے کا سب سے بڑا جلسہ ہے، آپ نے میرا دل خوش کر دیا، آپ کی تعداد سے مخالفین پر دہشت بیٹھ گئی ہے، میں تو آپ کو قائل کرنے آیا تھا لیکن آپ نے مجھے قائل کردیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے کبھی کسی کی خوش آمد نہیں کی، نہ فیکٹری لگائی نہ پیٹرول پمپ یا سی این جی اسٹیشن لیا، ہمیشہ عوامی وسائل کو عوام کی بہتری کے لیے خرچ کیا۔

مسلم لیگ ن کا چوہدری نثار کے خلاف امیدوار کھڑا نہ کرنے کا فیصلہ


سابق وزیر داخلہ نے کہا کہ قیامت کی نشانی ہے کہ مشرف دور کا ق لیگی ایم پی اے نواز شریف سے وفاداری دکھائے، میں نے ہمیشہ عزت کی سیاست کی ہے۔

1988 میں بے نظیر بھٹوکا طوفان ہو یا 2002 میں نواز شریف کے خلاف ہونے والی زیادتیاں اور جیل میں ڈالنا اور سعودی عرب بھیجا جانا، میں اس حلقے سے ہمیشہ جیتا، 25 جولائی کو سیاسی مخالفین یہاں سے بے یار و مدد گار روانہ ہوں گے۔

چوہدری نثار نے کہا کہ یہ غیرت مندوں اور بہادروں کا علاقہ ہے، میرے اور آپ کا ووٹر کا نہیں مٹی کا رشتہ ہے، یہاں میرے علاوہ کسی نے کام نہیں کیا، مجھےعمران خان کہتا ہے مجھ سے جتنے چاہے ٹکٹ لے لو، مجھے اگر ٹکٹ چاہیے ہوتا تو میرے لیے سب دروازے کھلے ہیں۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں