پانامہ لیکس: ایف آئی اے سے تحقیقات کروانے کیلئے تیارہیں، چودھری نثار -
The news is by your side.

Advertisement

پانامہ لیکس: ایف آئی اے سے تحقیقات کروانے کیلئے تیارہیں، چودھری نثار

اسلام آباد : وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار نے کہاہے کہ پانامہ لیکس کی تحقیقات ایف آئی اے سے کروانے کیلئے تیارہیں۔ تفتیشی افسر کا نام عمران خان دیں.

چوہدری نثار کا کہناتھا کہ اپوزیشن کے مطالبے پر ایف آئی اے سے تحقیقات کرانے کی پیشکش کی ہے،عمران خان تفتیش کیلئے ایف آئی اے کا افسر نامزد کریں۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا، چوہدری نثار کا کہنا تھا کہ ڈی چوک اور ایف نائن پارک کو جلسے جلوسوں کیلئے استعمال نہیں ہونے دیں گے۔

چودھری نثار نے کہا ہے کہ پاناما لیکس پر قومی اسمبلی میں شور شرابہ کرنے والے پہلے اپنے گریبان میں جھانکیں۔ اعتزاز احسن نے اللہ رسول کے ساتھ اپنی لیڈر کا نام لیا اور پھر سرے محل کی اونر شپ قبول کر لی۔

چودھری نثار علی خان نے دو ٹوک موقف اختیار کرتے ہوئے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان پر واضح کیا ہے کہ 24 اپریل کو اسلام آباد میں مادر پدر آزادی کے نام پر کسی جلسے کی اجازت نہیں دے سکتے۔

ڈی چوک اور ایف نائن پارک میں کوئی جلسہ یا سیاسی اجتماع نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ نہیں ہو سکتا کہ کوئی سیاسی جماعت جب بھی چاہے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کو سیل کر دے۔

اس کیخلاف کوئی بھی قانونی کارروائی کرنا پڑی تو ہم کریں گے اور حکومتی رٹ کو قائم کریں گے۔

انہوں نے پیپلز پارٹی کے سینیٹراعتزاز احسن پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پاناما لیکس میں پیپلز پارٹی کے 2سینیٹرز کے نام بھی ہیں اعتزاز احسن ان کی تحقیقات کرنے کے حوالے سے کوئی بات کیوں نہیں کرتے ؟

اعتزاز احسن پاناما لیکس پر صرف نواز شریف کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں۔ انہیں اپنی پارٹی کے وہ لوگ کیوں نظر آتے جن کے نام پر34آف شور کمپنیاں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دل چاہتا ہے کہ سارے حقائق قوم کے سامنے رکھوں لیکن وزیر اعظم کی جانب سے منع کرنے پر خاموش ہوں۔

چوہدری نثار کا کہناتھا کہ آف شور کمپنیوں کے معاملے کو حل کرناہے تو اسے میڈیا ٹرائل نہیں بننا چاہیئے۔

انہوں نے کہا کہ مے فیئرفلیٹس پربات کرنے سے پہلے سرے محل پربات ہونی چاہیئے۔ چوہدری نثار علی خان کا کہنا تھا حکومت اوراپوزیشن کی قیادت سمیت سب کا احتساب ہونا چاہئیے.

 

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں