مشرف دور میں مزدور دشمن قانون کے خلاف میں نے جہاد کیا، نثار nisar
The news is by your side.

Advertisement

مشرف دور میں مزدور دشمن قانون کے خلاف جہاد کیا، نثار

واہ کینٹ: وزیر داخلہ چوہدری نثار  نے کہا ہے کہ مشرف دور میں مزدور دشمن قانون نافذ کیا گیا تو میں نے اس کے خلاف جہاد کیا تاہم اکثریت نہ ہونے کے باعث ہم اسے روکنے میں کامیاب نہ ہوسکے۔

یہ بات انہوں نے مزدوروں کے عالمی دن کے موقع پر پاکستان آرڈیننس فیکٹری واہ کیٹ میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

انہوں نے کہا کہ میری تقریر نہ سیاسی ہوگی، نہ کسی پرتنقید ہوگی، میں اس حلقے کا نمائندہ نہیں پھر بھی آپ سے ایک رشتہ ہے،میرا رشتہ پی او ایف کے مزدوروں سے ہے، نہ میرے دل میں کھوٹ ہے،نہ پی او ایف کے مزدوروں کے دل میں، نثار بھی سیدھی بات کرتا ہے اور مزدور بھی سیدھی بات کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ میں یہاں پر ووٹ مانگنے نہیں آیا، یوم مزدور پر نواز شریف کی طرف سے  مبارکباد دینے آیا ہوں، میں پی او ایف کے مزدوروں سے اظہاریکجہتی کے لیے آیا ہوں، کچھ دن سے شہر سے باہر تھا، معلوم نہیں یہاں کیا کچھڑی پکتی رہی ہے۔

سیکیورٹی ایجنسیز نے آج کے اجتماع پر حملوں کا خدشہ ظاہر کیا

چوہدری نثار نے کہا کہ آج صبح بتایا گیا کہ اس اجتماع پر حملوں کا خطرہ ہے، سیکیورٹی ایجنسز اس علاقے کا تحفظ نہیں کرسکتیں تو پھر سوالیہ نشان ہے، ایجنسیوں سے کہا کہ رپورٹ دینا آپ  اور جانا نہ جانا میرا کام ہے،میں نے پی او ایف آنے کا وعدہ کیا تھا جو پورا کردیا، نہیں پتا کون نادان لوگ ہیں جنہوں نے یہ ابہام ڈالا۔


اسی سے متعلق: پاکستان آرڈیننس فیکٹری میں دہشت گردی کا خطرہ، وزیر داخلہ برہم


وزیر داخلہ نے کہا کہ سال 2000 میں مزدوروں پر ایک کالا قانون نافذ کیا گیا، مشرف کے مزدور دشمن قانون کے خلاف میں نے جہاد کیا لیکن ہماری اکثریت نہیں تھی،ہم اس قانون کو روکنے میں کامیاب نہیں ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ میں یہاں مزدوروں کا نمائندہ بن کر آیا ہوں، حکومت اور فوج کو احساس ہونا چاہے یہ فیکٹری مزدوروں کے دم سے چلتی ہے،مزدور سے مشاورت کے بغیر کوئی فیصلہ مسلط یا لاگو نہیں ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ پی او ایف کے مسائل حل کرنے کے لیے کمیٹی بنائی جائے،آرڈیننس فیکٹری کا مزدور محفوظ نہیں تو پھر کوئی محفوظ نہیں۔

انہوں نے یکم مئی سے مزدوروں کو مراعات دیے جانے کا اعلان کیا اور کہا کہ یکم جون 2017 کو تنخواہ کےساتھ یہ مراعات ملیں گی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں