The news is by your side.

Advertisement

بھارت وضاحت کرے پاکستان کو کیا سبق دینا چاہتا ہے ، وزیر داخلہ

اسلام آباد: وزیر داخلہ چوہدری نثار نے کہا ہے کہ بھارت دھمکیاں دیتا ہے اور مذاکرات کی بات کرتا ہے ساتھ ہی کشمیریوں پر ظلم بھی کرتا ہے،دنیا کے کسی بھی حصے میں ہماری تضحیک کی گئی تو جواب دوں گا، کشمیر میں ظلم پر بھارت کے خلاف میرے موقف کی تمام سیاسی جماعتوں نے تعریف کی مگر ایک سیاسی جماعت کو سانپ سونگھ گیا۔


Nisar responds to Indian minister’s allegations by arynews
اسلام آباد میں طویل پریس کانفرنس کرتے ہوئے چوہدری نثار کاکہنا تھا کہ بھارتی وزیر داخلہ راج ناتھ نے دورہ پاکستان سے واپسی پر راجیہ سبھا میں میری بات کا جواب دیا اور کہا کہ پاکستان سبق سیکھنے کے لیے تیار نہیں،بھارت کشمیر میں تسلط اور اجارہ داری کا سبق دینا چاہتا ہے؟ کاش وہ وضاحت کردیتے کہ کون ساسبق ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارتی  وزیر داخلہ کی یہاں آمد پر کئی سیاسی جماعتوں نے مظاہرے کیے مگر وہ تہذیب کے دائرے میں تھے لیکن بھارتی میں لوگوں کا منہ کالا کردیا جاتا ہے، غلام علی، شہریار خان اور خورشید قصوری کا کیا قصور تھا؟ ان کی مثالیں سب کے سامنے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کون کشمیر میں ظلم کررہا ہے، کون دھمکیاں بھی دے رہا ہے اور مذاکرات کے دروازے بند کررہا ہے، بھارتی میڈیا خود دیکھ لے، راج ناتھ مجھ سے ملنا نہیں چاہتے تھے تو میں بھی ان سے ملنے کے لیے بے تاب نہیں تھا، مذاکرات ہی مسائل کا حل ہیں،میرا احتجاج مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے ظلم کے خلاف تھا اور مہذب احتجاج تھا، راج ناتھ کی راجیہ سبھا میں تقریر کا جواب فوج سے نہیں پارلیمنٹ سے ہی آنا چاہیے تھا کچھ لوگ مجھ پر تنقید کرنے کی کوشش نہ کریں اور ہیرو نہ بنیں۔

انہوں  نے کہا کہ کشمیر میں مظالم پر بھارت کے خلاف بات کی، تسلی ہے جو کچھ کیا وہ ملکی مفاد میں کیا ،مجھ پر تنقید کرنے والی سیاسی جماعت کچھ عرصہ قبل خود بھارت کے خلاف نعرے لگواتی تھی اور اب مجھ پر تنقید کی جارہی ہے، بھارتی وزیرداخلہ کے رویے پر ایک سیاسی جماعت نے خاموشی اختیار کیے رکھی،میں نے کسی کا نام لیے بغیر دہشت گردی کے خلاف اعدادو شمار پیش کیے۔

وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ نیشنل ایکشن پلان کے پہلے چار نکات وزارت داخلہ اور بقیہ صوبائی اور دیگر وزارتوں سے متعلق ہیں،مجھ سے قبل کیس نے شناختی کارڈ اور پاسپورٹ منسوخ کیوں نہیں کیے؟اصل میں ایک جماعت نے مجھے ٹارگٹ کرلیا ہے،ایک ٹولہ کسی بھی واقعے کے بعد ہم پر تنقید کرتا ہے، کچھ لوگوں کو بھارت کے مفادات بہت عزیز ہیں، بھارت کے مفاد کا دفاع بھی یہی ٹولہ کرتا ہے۔

میتھیو بیریٹ پر جاسوسی کا الزام نہیں تھا

امریکی شہری میتھیو بیریٹ کے معاملے پر انہوں نے کہا کہ میتھیو سال 2011 میں پاکستان سے ڈی پورٹ ہوا، عدالتی حکم پر اسے جیل سے نکال کر ملک بدر کیا گیا، اس پر جاسوسی کا الزام نہیں تھا سیکیورٹی علاقے میں پایا گیا تھا۔

پریس کانفرنس میں ان کا کہنا تھا کہ امریکی شہری کا ویزا فارم منگوایا ہے میتھیو نے پانچ سال بعد پھر ویزے کے لیے درخواست دی تھی،اسے ویزا دینے والوں کے خلاف سخت کارروائی ہو گی،غلطی کی نشاندہی کرنے والے کو ایک لاکھ روپے انعام دیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جے آئی ٹی رپورٹ کی روشنی میں امریکی شہری کو ڈی پورٹ کیا جائے گا اور جس نے امریکی شہری کو چھوڑا وہ حراست میں ہے۔

3کروڑ 12لاکھ شناختی کارڈز کی تصدیق کی

شناختی کارڈز کی تصدیق کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ایک ماہ میں 3 کروڑ 12 لاکھ شناختی کارڈز کی تصدیق کی گئی، نادرا کی جانب سے لوگوں کے موبائل فون پر 48 لاکھ ایس ایم ایس  بھیجے، 33 لاکھ لوگوں نے نادرا سے خود رابطہ کیا، 30 ہزار لوگوں کی تصدیق نہیں ہوئی ان کے شناختی کارڈ ز بلاک کردیئے گئے ہیں اور تصدیق نہ ہونے والے لوگوں کے خلاف رواں ماہ کے آخر میں کارروائی ہوگی۔ انہوں نے بتایا کہ 14 غیر ملکیوں نے خود فون کر کے شناختی کارڈز اور پاسپورٹ واپس کیے۔

پاکستان میں کوئی بھی کرپشن کے خلاف سنجیدہ نہیں

انہوں نے کہا کہ عمران خان کہتے ہیں میری ریلی کرپشن کے خلاف ہے، پاکستان میں کرپشن کے خلاف کوئی بھی سنجیدہ نہیں، یہ صرف ایک ہتھیار ہے مخالفین کے خلاف ، بلاول کو کنٹینر پر چڑھانے سے قبل پوچھ لینا چاہیے تھا کہ بیٹا دبئی کے محلات کے لیے رقم کہاں سے آئی؟ ہم نے کبھی نہیں کہا کہ ایک میٹر ریڈر اس مقام تک کیسے پہنچا؟پی پی منع کردے کہ سرے محل آپ کا نہیں؟سوئس بینکوں میں پیسہ کس نے رکھا؟ایل پی جی کوٹا کس نے اپنے نام کرایا؟

زرداری اور ایان علی میں کیا تعلق ہے؟

انہوں نے پی پی اور آصف زرداری پر تنقید کی اور کہا کہ آخر ایان علی اور آصف زرداری میں کیا تعلق ہے؟ اس کے دفاع کے لیے مفت میں کیس لڑا جارہا ہے اور غریب آدمی کے دفاع میں یہ لوگ کھال کھینچ لیتے ہیں،بلاول اور ایان علی کے ایئرٹکٹس ایک ہی اکائونٹ سے جاتے ہیں۔

پی پی سے صلح ایان علی و ڈاکٹر عاصم کی رہائی سے مشروط

انہوں نے کہا کہ میری اور پی پی کی صلح کے لیے ایک ذمہ دار شخص آیا اور کہا کہ آپ کی اور پی پی میں صلح ہوسکتی ہے لیکن اس نے ایان علی کو بری کرنے اور ڈاکٹر عاصم کی رہائی کی شرط عائد کی۔

رینجرز کی جانب سے ڈاکٹر عاصم کی گرفتاری غلط تھی

میں نے رینجرز کی جانب سے ڈاکٹر عاصم کو گرفتار کرنے کی مذمت کی اور کہاکہ یہ رینجرز کا اختیار نہیں اور اسی لیے اب ڈاکٹرعاصم نیب کے پاس ہیں،احتساب کرنا میرا کام نہیں، اس کے لیے نیب موجود ہے۔

دہشت گرد فون پر کہتے ہیں کوئی پٹاخہ تو چھوڑو

انہوں نے کہا کہ کوششوں کا نتیجہ ہے کہ دہشت گردی کم ہوگئی،دو برس میں 20 ہزار سے زائد آپریشن کیے، ملک میں دہشت گردی میں کمی آئی، یہ میں نہیں امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کا بیان ہے،میرا کام انٹیلی جنس شیئرنگ کرنا ہے ، دہشت گرد آسان اہداف کی تلاش میں لگے رہتے ہیں اور فون کالز پر ایک دوسرے سے کہتے ہیں کہ ایک پٹاخہ تو چھوڑو، کچھ تو کرو،ہمارے دشمن سرحد پار چلے گئے ہیں، کم ضرور ہوئے لیکن ختم نہیں ہوئے۔

ایک میٹر ریڈر اپوزیشن لیڈر کیسے بن گیا

انہوں نے نام لیے بغیر کہا کہ دو اشخاص نے دھرنے کے دوران بد ترین بدتمیزی کی میں جواب دینا چاہتا تھا مگر وزیراعظم بیچ میں آگئے تو خاموش رہا، دونوں افراد سے کہتا ہوں کہ بیان بازی سے گریز کریں، مجھ پر الزامات لگانے والوں کو چیلنج کرتا ہوں۔بعدازاں انہوں نے اعتزاز احسن اور خورشید شاہ کو مذاکرے کا چیلنج دے دیا اور کہا کہ میں نے کبھی نہیں کہا کہ ایک میٹر ریڈر اپوزیشن لیڈر کیسے بن گیا؟ میڈیا میں بیان بازی سے گریز کرناچاہیے، ایک دوسرے پر الزامات عائد کرنے کاسلسلہ ختم کیا جائے معاملے کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے ورنہ مزید پریس کانفرنسز کروں گا۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں