یقین ہے کوئی بھی اردوبولنے والا متحدہ قائد کا ساتھ نہیں دے گا، چوہدری نثار -
The news is by your side.

Advertisement

یقین ہے کوئی بھی اردوبولنے والا متحدہ قائد کا ساتھ نہیں دے گا، چوہدری نثار

کراچی : وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ پاکستان مخالف بیانات کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے لیکن مذمت مسئلے کا حل نہیں، مسئلہ سوچ کا ہے، آج وزیراعظم کی ہدایت پر کراچی آیا ہوں تاکہ کراچی کے عوام کو مبارک باد دے سکوں۔ اردو بولنے والا طبقہ پاکستان کا سب سے محب وطن طبقہ ہے، اور مججھے یقین ہے کہ پاکستان مخالف نعرے پر کوئی بھی اردو اسپیکنگ الطاف حسین کا ساتھ نہیں دے گا، یہ خوش آئند بات ہے کہ پچیس سال میں پہلی مرتبہ کراچی کے عوام کسی کی دھمکی میں نہیں آئے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گورنر ہاؤس کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

میڈیا ہاؤسز پر حملے قابل مذمت ہیں 

نثار علی خان نے کہا کہ دو دن قبل کراچی میں افسوس ناک واقعہ ہوا، توڑ پھوڑ ہوئی۔ گزشتہ روز ہونے والے میڈیا ہاؤسز پر حملے کے واقعے پر بہت افسوس ہے۔ وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ واقعے کے بعد سیکیورٹی فورسز نے احسن طریقے سے حالات پر قابو پایا،اس کیلئے میں گورنر، وزیراعلیٰ سندھ ڈی جی رینجرز مبارک با د کے مستحق ہیں۔ اس حوالے سے میڈیا نے بھی بہت ذمہ داری کا مظاپرہ کرتے ہوئے مثبت رپورٹنگ کی۔ ہر شخص کی سیکیورٹی اہم ہے لیکن ٹارگٹ کے لحاظ سے میڈیا ہائی پروفائل ٹارگٹ ہے، ایک ٹیررازم کے لحاظ سے اور دوسرا مظاہرہ آپ دو دن قبل حملے کی صورت میں دیکھ چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ کو کہہ دیا ہےکہ اس ضمن میں خصوصی انتظامات کیے جائیں اور میڈیا کو سخت سیکیورٹی دی جائے، میڈیا کے لیے ایک سیکیورٹی سسٹم تشکیل دیا جائے گا۔

متحدہ قائد کی پاکستان کیخلاف ہرزہ سرائی قابل مذمت ہے 

چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ مجھے سمجھ نہیں آیا کہ الطاف حسین نے ایسی بات کیوں کہی؟ بد قسمتی سے پرسوں ہونے والی تقریر جس کو نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا کے لوگوں نے سنا کہ کس طرح اس شخص نے پاکستان کیخلاف ہرزہ سرائی کی جس کو اسی ملک نے عزت دی، پرسوں کی تقریر نے تمام پردے ہٹادیئے، تمام راز عیاں کردیئے، ساری تقاریر کا ریکارڈ ہمارے پاس کئی برس سے محفوظ ہے، غیر ملکی فنڈنگ پاکستان کے ذریعے نہیں ہوئی اس میں ایک اور ملک ملوث ہے۔

متنازعہ تقریرسے متعلق  برطانیہ کو شواہد دے دیئے ہیں

ایک اور سوال پر وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ الطاف حسین کی تقاریر دس برس قبل ٹیلی فونک شروع ہوئیں، تقریر کے خلاف برطانیہ کے اعلیٰ حکام سے رابطہ کیا، ہم نے برطانیہ کو شواہد دے دیئے ہیں اسی کے نتیجے میں الطاف حسین نے معافی مانگی، ہم نے باقاعدہ دو دن قبل کہہ دیا تھا کہ جو شواہد دیئے ہیں اس کے نتیجے میں اسکاٹ لینڈ یارڈ کارروائی کرے، ہم برطانوی حکومت سے توقع رکھتے ہیں کہ اس واقعے کا نوٹس لے جس میں ایک شخص مارا بھی گیا ، امید ہے معاملے میں پیش رفت ہوگی، کیوں کہ یہ پاکستان کی سالمیت کا مسئلہ ہے امید ہے حکومت برطانیہ جلد اس کیس میں پیش رفت کرے گی۔

اردو بولنے والے تمام محب وطن پاکستانی ہیں 

اردو اسپیکنگ پاکستان کا محب وطن ترین طبقہ ہے کسی اور طبقے نے پاکستان کے لیےاتنی قربانیاں نہیں دیں، اپنے لیڈر کی آواز پر اپنا وطن چھوڑ کر یہاں آگئے، انہوں نے کہا کہ ایسی کمیونٹی کی نمائندگی کرتے ہوئے الطاف حسین پاکستان مردہ بادہ کہہ گئے ، میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ کوئی اردو اسپکنگ الطاف حسین کا ساتھ نہیں دے گا کیوں کہ ان کی زندگی ان کا سب کچھ پاکستان ہے کیوں کہ پاکستان کی بات ہوتی ہے تو کراچی والے امڈ آتے ہیں۔ ان کے چہروں ان کی آنکھوں اور ان کی آواز میں پاکستان سے محبت چھلکتی ہے۔ چوہدری نثار نے خدشہ ظاہر کیا کہ اب یہ ظاہر کیا جائےگا کہ یہ لڑائی حکومت اور اردو اسپیکنگ کمیونٹی کی ہے، ایسا نہیں ہونے دیا جائےگا، یہ ایڈمنسٹریٹو سطح پر میں نے کہہ دیا ہے۔

کراچی کے عوام نے خوف کا بت توڑ دیا 

کراچی کے عوام کو مبارک باد دیتا ہوں کہ 20 22 سال کا خمیازہ اتار پھینکا، پہلے کسی کو کھجلی بھی ہوتی تھی تو کراچی کو بند کردیا جاتا تھا، ایک دن کراچی بند ہونے سے پاکستانی کی معیشت کو پانچ ارب روپے کا نقصان ہوتا ہے، اب کوئی بھی اس شہر کو یرغمال نہیں بنا سکے گا، یہ خوش آئند بات ہے کہ پچیس سال میں پہلی مرتبہ کراچی کے عوام کسی کی دھمکی میں نہیں آئے۔

ایم کیو ایم ایک ہوگی یا دوجلد پتہ چل جائے گا 

ایک صحافی کی جانب سے اس سوال پر کہ ایم کیو ایم کا ترجمان واسع جلیل آج بھی ایم کیو ایم لندن کی نمائندگی کررہا ہے، جس پر چوہدری نثار نے کہا کہ یہ آئینی معاملات ہیں، ہم اپنے قانونی ماہرین بھیج رہے ہیں، ایف آئی آر کی بھی درخواست ہے ، صحافی جو پوچھ رہے ہیں اس حوالے سے چند روز میں سب کے سامنے سب کچھ آجائے گا، ایم کیو ایم ایک ہوگی یا دو سب واضح ہوجائے گا۔

آرمی چیف کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں 

گورنر ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیرداخلہ کا کہنا تھا کہ کوئی کچھڑی نہیں پک رہی، کسی کے ذہن میں پک رہی ہوگی، آرمی چیف ایک پروفیشنل عہدہ ہے جس کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں، کچھ لوگ مسئلے کو سیاسی بنانا چاہتے ہیں۔ نیشنل ایکشن پلان کے علاوہ بھی اسلام آباد میں ایک حکمت عملی طے کی جارہی ہے جس کے لیے تمام وزرائے اعلیٰ کو جلد طلب کیا جائےگا۔

متحدہ کے دفاترکا فیصلہ سندھ خکومت کرے گی 

متحدہ قومی موومنٹ کے دفاتر سیل کرنے سے متعلق انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم کے سندھ میں دفاتر سیل کرنے کے حوالے سے سندھ حکومت پالیسی بنائے اور ہمیں ارسال کرے جو صوبائی حکومت فیصلہ کرے گی وفاق اس کی تائید کرے گا۔

 

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں