The news is by your side.

نواز شریف اپریل میں تبدیلی کے بعد انتخابات نہ کرانے پر نالاں ہیں، سالک حسین

چوہدری شجاعت حسین کے صاحبزادے چوہدری سالک حسین نے دعویٰ کیا ہے کہ نواز شریف اپریل میں وفاق میں تبدیلی کے بعد انتخابات نہ کرانے پر نالاں ہیں۔

چوہدری سالک حسین نے اے آر وائی نیوز کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ نواز شریف گزشتہ سال اپریل میں وفاقی حکومت کی تبدیلی کے بعد انتخابات نہ کرانے پر نالاں ہیں۔ انہوں نے مجھے بتایا تھا کہ وہ فوری انتخابات کے حق میں تھے تاہم کچھ قوانین میں تبدیلیاں کرنی تھیں جس کے باعث تاخیر ہوئی۔

سالک حسین کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت ایسی تبدیلیاں چاہتی تھی جس سے دوبارہ سیاسی انتقام کا نشانہ نہ بنیں۔ کچھ ایسے اتحادی بھی تھے جو فوری انتخابات کرانے کے مخالف تھے۔

انہوں نے کہا کہ اسٹیبلشمنٹ سے ملاقاتوں کیلیے شجاعت اور پرویز الہٰی اکٹھے جاتے تھے۔ تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں، ہمیشہ جس سے بھی ملے دونوں اکٹھے ہی ملے۔ ہو سکتا ہے آخر میں پرویز الہٰی سے کوئی علیحدہ رابطہ ہوا ہو لیکن اس بات پر مجھے شک ہے کہ پرویز الہٰی کو کہا گیا ہو کہ شجاعت حسین کو نہیں بتانا۔ اگر کسی نے پیغام ہی دینا تھا تو دونوں کو اکٹھے بلا کر بھی پیغام دیا جا سکتا تھا۔

چوہدری سالک کا کہنا تھا کہ سیاست میں ہمیشہ صلح اور دوبارہ الحاق کے امکانات ہوتے ہیں۔ جب تک پی ٹی آئی کے ساتھ ہیں وہ نہیں چاہتے صلح ہو۔ پرویز الہٰی تحریک انصاف کو چھوڑ دیں تو ان کے لیے آسانی ہوگی۔ وہ واپس آنا چاہیں تو چوہدری شجاعت کی پی ڈی ایم والے اتنی عزت تو کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں: پرویز الہٰی کے اعتماد کا ووٹ لینے پر نواز شریف اور مریم نواز سخت برہم

ان کا کہنا تھا کہ پہلے بھی تو پی ڈی ایم شجاعت حسین کی وجہ سے ہی وزارت اعلیٰ دینے پر راضی تھی۔ پرویز الہٰی اور مونس کی موجودگی میں ن لیگ سے سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر بات بھی ہو رہی تھی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں