The news is by your side.

Advertisement

ساہیوال جیسے واقعات دنیا بھر میں ہوتے ہیں، گورنر پنجاب

میرپور: گورنر پنجاب چوہدری سرور نے کہا ہے کہ ساہیوال واقعے کی وجہ سے کاؤنٹرٹیرر ازم ڈیپارٹمنٹ کی کارکردگی پر تنقید نہیں ہونی چاہیے، اس طرح کے واقعات دنیا بھر میں ہوتے ہیں، حکومت نے تحقیقات کے لیے جے آئی ٹی تشکیل دے دی۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے برطانوی رکن پارلیمنٹ لارڈ نذیر کے ہمراہ آزاد کشمیر کے علاقے میرپور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ گورنر پنجاب کا کہنا تھا کہ ساہیوال واقعہ کی تحقیقات کےلئے حکومت نےجےآئی ٹی بنادی جس میں اہم اداروں کے افسران بھی شامل ہیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ ساہیوال واقعےمیں مارےجانے والے افراد واقعی بےگناہ تھے،جس پر سب کو ہی دکھ اور صدمہ پہنچا، حکومت واقعے کے ذمہ داروں کو کٹہرے میں ضرور لائے گی۔

مزید پڑھیں: ساہیوال آپریشن 100 فیصد ٹھوس شواہد بنیاد پر کیا گیا، جے آئی ٹی کا مؤقف تسلیم کریں گے، وزیرقانون پنجاب

اُن کا کہنا تھا کہ سی ٹی ڈی نے صوبے سے دہشت گردی کا قلع قمع کیا، ایک واقعہ کو بنیاد پر کر کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کی مجموعی کارکردگی پر تنقید نہیں ہونی چاہیے کیونکہ دیگر صوبوں کی طرح پنجاب میں فوج اور رینجرزکونہیں بلایاگیا۔

گورنر پنجاب کا مزید کہنا تھا کہ ساہیوال جیسے واقعات پوری دنیا میں رونما ہوتے ہیں، واقعے کی تفتیش اور تحقیقات کرنا اصل معاملہ ہے جس کے لیے حکومت نے جے آئی ٹی تشکیل دے دی۔

قبل ازیں وزیر قانون پنجاب راجہ بشارت نے میڈیاسے گفتگو کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ ساہیوال واقعے میں ذیشان نامی دہشت گرد مارا گیا جس کی مانیٹرنگ جاری تھی، اگر سی ٹی ڈی کارروائی نہ کرتی تو کئی معصوم شہریوں کی جان جاسکتی تھی۔ اُن کا کہنا تھا کہ گاڑی میں سے اسلحہ، گولہ بارود، ہینڈ گرنیڈ اور خود کش جیکٹس بھی برآمد ہوئیں جبکہ سیف سٹی کیمروں میں گاڑی کی نقل و حرکت بھی محفوظ ہیں، سی ٹی ڈی نے 100 فیصد ٹھوس شواہد کی بنیاد پر کارروائی کی۔

یہ بھی پڑھیں: ساہیوال میں سی ٹی ڈی کے مبینہ مقابلے کی ایف آئی آر درج

دوسری جانب ساہیوال واقعے میں سی ٹی ڈی کا نشانہ بننے والی گاڑی کی ایک اور فوٹیج سامنے آگئی جو ٹول پلازہ کے قریب لی گئی ہے۔

فوٹیج میں دیکھا جاسکتا ہے کہ گاڑی کے شیشوں سے اندر بیٹھے افراد واضح دکھائی دے رہے ہیں جبکہ سی ٹی ڈی نے دعویٰ کیا تھا کہ گاڑی کے شیشے رنگین تھے جس کی وجہ سے انہیں کوئی نظر نہیں آیا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں