The news is by your side.

Advertisement

صرف پٹواری یا تھانیدار کا نہیں، سب کا احتساب ہوگا: چیئرمین نیب

کوئٹہ: چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کا کہنا ہے کہ نیب کے ادارے کا مقصد ہر صورت پورا کیا جائے گا، اب بات شروع ہوگی تو اوپر سے شروع ہوگی پٹواری یا تھانیدار سے نہیں، کوئی کسی بھی عہدے پر رہا احتساب سب کا ہوگا۔

تفصیلات کے مطابق صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں قومی احتساب بیورو (نیب) بلوچستان کے دفتر میں تقریب ہوئی۔

تقریب میں چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال اور نگراں وزیر اعلیٰ بلوچستان علاؤ الدین نے شرکت کی۔ تقریب میں کرپشن کیس میں برآمد کی گئیں جائیدادیں بلوچستان حکومت کو دیں گئی۔

برآمد کی گئی جائیدادوں کی مجموعی مالیت 1 ارب 25 کروڑ روپے ہے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کا کہنا تھا کہ نیب کے ادارے کا مقصد ہر صورت پورا کیا جائے گا، کرپشن کو ختم کرنے کے لیے جدوجہد جاری رہے گی۔

انہوں نے کہا کہ احتساب ہوگا تو بلا تفریق ہوگا ورنہ نہیں ہوگا۔ ’اب بات شروع ہوگی تو اوپر سے شروع ہوگی پٹواری یا تھانیدار سے نہیں، کوئی کسی بھی عہدے پر رہا احتساب سب کا بلا تفریق ہوگا‘۔

چیئرمین نیب کا کہنا تھا کہ ہر پاکستانی کی عزت نفس کا پورا خیال رکھا جائے گا، کسی ایک شخص یا جماعت نہیں ہر شخص کا بلا تفریق احتساب ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ 5 لاکھ کی جگہ 5 کروڑ خرچ کریں تو نیب نے سوال پوچھا، سوال پوچھ لیا تو کیا گستاخی کی۔ ایسا کوئی اقدام نہیں اٹھائیں گے جو الیکشن پر اثر انداز ہو یا کسی جماعت کی سپورٹ کا تاثر جائے۔

چیئرمین کا کہنا تھا کہ پاکستان نے پہلے ترقی کی پھر زوال کا شکار ہوگیا۔ زوال کی تہہ تک پہنچیں تو پتہ چل جائے گا کرپشن نے تباہی کی۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایک سابق وزیر اعلیٰ کی انکوائری کی جا رہی ہے، 2 کی انکوائری الیکشن کے بعد ہوگی۔ نیب کچھ کر رہا ہے تو اس میں انتقامی کارروائی کا کوئی دخل نہیں، ہر بیورو کریٹ کو نیب کا مکمل تعاون حاصل رہے گا۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈی جی نیب بلوچستان نے کہا کہ لوٹی دولت کی واپسی سے ملک کی معیشت مستحکم ہوگی۔ لوٹی رقم کی واپسی کے لیے نیب شفاف طریقے پر عمل پیرا ہے۔ ماضی میں کرپشن پر بچ جانے والے اب نہیں بچیں گے۔

ڈی جی نیب بلوچستان نے کہا کہ مشتاق رئیسانی کیس میں 1 ارب 25 کروڑ روپے ریکور کیے۔ یہ بلوچستان سے سب سے بڑی ریکوری ہے۔

انہوں نے کہا کہ غلط ذرائع سے کمائی آمدنی کے لیے زیرو ٹالرنس ہونی چاہیئے، جن اقوام نے ترقی کی انہوں نے بدعنوانی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں