The news is by your side.

Advertisement

آئندہ نیب میری اجازت کےبغیرگریڈ 19 یااس سےاوپر کےافسرکوازخود گرفتارنہ کرے، چیئرمین نیب

لاہور : چیئرمین نیب جاویداقبال کا کہنا ہے ایک بات طے ہے کہ نیب احتساب کا عمل نہیں روکے گا اور جس کسی نے بھی کرپشن کی ہے اسے کسی صورت رعایت نہیں دی جائےگی، ملک کاہم پرکچھ قرض ہےجوہم نےاتارناہے، آئندہ نیب کا ریجنل آفس گریڈ 19 یا اس سے اوپر کے افسر کو از  خود گرفتار نہیں کر ےگا ،مجھ سے پیشگی اجازت لی جائےگی۔

تفصیلات کے مطابق لاہور میں چیئرمین نیب جاویداقبال نے سول سیکرٹریٹ میں افسران سےخطاب کرتے ہوئے کہا بیورو کریسی ملک کےلیےریڑھ کی ہڈی ہے، بلا خوف و خطر قانون کے تحت فرائض انجام دے، اگر وہ فیصلے نہیں کرے گی تو ہم آگے کیسے بڑھیں گے، حکومت پالیسی بناتی ہے اور عملدرآمد بیورو کریسی کا کام ہے۔

بیورو کریسی ملک کےلیےریڑھ کی ہڈی ہے

چیئرمین نیب کا کہنا تھا پروپیگنڈاکیاگیانیب کی وجہ سے بیورو کریسی نے کام چھوڑ دیا، جائزہ لیا تو بیورو کریسی کے مقدمات نہ ہونے کے برابر تھے، پروپیگنڈے کا مقصد نیب پر الزام، بیوروکریسی کی حوصلہ شکنی تھا، بدعنوان عناصرسے330ارب قومی خزانےمیں جمع کرائے۔

جسٹس (ر) جاوید اقبال نے کہا آج ہم اگرعہدوں پرفائزہیں توپاکستان کی وجہ سےہیں، ملک کاہم پرکچھ قرض ہےجوہم نےاتارناہے، بیوروکریسی سیاسی دباؤ بالائےطاق رکھے، عدالت بیوروکریسی کےقانونی اقدامات کاتحفظ کررہی ہے، بیوروکریسی قانون کےمطابق کام کرےتونیب کیوں بلائےگا۔

ان کا کہنا تھا کسی سیکرٹری کیخلاف شکایت آئی توذاتی طورپر جائزہ لوں گا، آئندہ نیب کا ریجنل آفس گریڈ 19 یا اس سے اوپر کے افسر کو از خود گرفتار نہیں کر ےگا ،مجھ سے پیشگی اجازت لی جائےگی اور کرپشن کے الزام میں گرفتار کسی افسر کو ہتھکڑی بھی نہیں لگائی جائےگی۔

کرپشن کے الزام میں گرفتار کسی افسر کو ہتھکڑی بھی نہیں لگائی جائےگی

چیئرمین نیب نے کہا کہ گزشتہ برس پنجاب میں میگا کرپشن کیسز سامنے آئے اور ہم نے جن بیورو کریٹس کے خلاف کارروائی کی ان کے خلاف ٹھوس شواہد موجود ہیں اور شواہد سے ثابت کروں گا نیب جوکام کر رہا ہے وہ درست ہے۔

ان کا کہنا تھا میگا کرپشن کے مقدمات کو منطقی انجام تک پہنچانا سب کی اولین ترجیح ہے اور نیب ملک سے بدعنوانی کے خاتمے کی پالیسی پر قانون کے مطابق بلا تفریق عمل پیرا ہے، بدعنوانی تمام برائیوں کی جڑ ہے اور نیب افسران قومی فریضہ سمجھ کر فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔

جسٹس (ر) جاوید اقبال نے کہا کہ جائز معاملات میں افسران کے ساتھ مکمل تعاون کیا جائے گا، کوئی بھی افسر کسی وقت بھی مجھ سے مل سکتا ہے، افسران کرپشن کے خاتمے کے لئے کلیدی کردار ادا کریں۔

جس کسی نے بھی کرپشن کی ہے اسے کسی صورت رعایت نہیں دی جائےگی

چیئرمین نیب کا کہنا تھا کہ بیورو کریسی مکمل ذمہ داری اور اعتماد کے ساتھ فرائض انجام دے اور دیکھے کہ کام کرنے کے لیے ماحول سازگار ہے یا نہیں، بیوروکریسی دیکھے تقرری کی مدت اور تقرر و تبادلے میرٹ پر اور درست ہو رہے ہیں یا نہیں۔

انہوں نے کہا نیب آپ سب کا ادارہ ہے، ایسا قدم نہیں اٹھائے گا ، جس سے ملکی معیشت کو نقصان ہو، نیب صوبائی حکومتوں سے مکمل تعاون کرے گا،صوبائی محکمے اپنا ایک فوکل پرسن تعینات کریں جو نیب کے ساتھ مل کر کام کرے ، ایک بات طے ہے کہ نیب احتساب کا عمل نہیں روکے گا اور جس کسی نے بھی کرپشن کی ہے اسے کسی صورت رعایت نہیں دی جائےگی ۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں