The news is by your side.

Advertisement

‘نیب نے ایسی شارک مچھلیوں اور مگر مچھوں کو پکڑا ، جنہیں ماضی میں کوئی ادارہ نہ بلاسکا’

اسلام آباد: چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کا کہنا ہے کہ نیب نے شارک مچھلیوں اور مگر مچھوں کو بھی پکڑاہواہے اور ان سے بھی جواب دہی کی ہے، جنہیں ماضی میں کوئی ادارہ نہ بلاسکا۔

تفصیلات کے مطابق چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ نیب انسان دوست ادارہ ہے کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ نیب کا کوئی قدم ملک کیخلاف تھا، نیب نے ملک اور قوم کی بہتری کیلئے اقدامات کئے ہیں۔

جسٹس (ر) جاوید اقبال کا کہنا تھا کہ تنقید برائے تعمیر کی بات کرنیوالوں کو حقائق کا ادراک ہونا چاہیے، نیب اور پاکستان ساتھ ساتھ چل رہےہیں لیکن نیب اور کرپشن ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے، صبح نیب عدالت کی پیشی بھگت رہےہوتے ہیں اور عدالت کےباہر آپ نیب کے خلاف باتیں کررہے ہوتے ہیں۔

چیئرمین نیب نے کہا کہ نیب کو صرف گالیاں دےکر چلےجائیں گے تو آپ کاکوئی فائدہ نہیں ہوگا، نیب ملک کی سرمایہ کاری میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے، ایک سرمایہ کار بتادیں جس نے کہاہو کہ نیب نے راستہ روکا۔

ان کا کہنا تھا کہ نیب کی بدولت ملک کی برآمدات میں اضافہ ہورہاہے، سب سے مشکل ترین کام ملک کا پیسہ واپس لیناہے، نیب بڑے لوگوں کی خدمت نہیں عوام کیلئے وجودمیں آیا، عوام کی دعا اور شاباش کےبعد نیب کوکسی اور کی ضرورت نہیں۔

جاوید اقبال نے مزید کہا کہ آپ کو حقیقت کا پتہ نہیں ہوتا اور تقریریں شروع کردیتے ہیں، اگر نیب رکاوٹ ہوتا تو کیا تعمیراتی شعبہ ترقی کرتا، نیب مسئلہ نہیں بلکہ مسائل کا حل ہے۔

چیئرمین نیب کا کہنا تھا کہ حقیقت اور قانون سے واقفیت ضروری ہے، کیا کبھی ایسا ہوا ہے کہ 533ارب کی ریکوری 3سال میں ہوئی ہو، میں نیب کی تمام ذمہ داری اپنے آپ پر لیتاہوں، عزت اور ذلت صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے۔

انھوں نے کہا ک نیب جس طریقے سے کام کررہاہے کرتارہے گا، نیب نے شارک مچھلیوں اور مگر مچھوں کو بھی پکڑاہواہے، نیب نے ان سے بھی جواب دہی کی ہے جنہیں ماضی میں کوئی ادارہ نہ بلاسکا، پروپیگنڈاکیاگیا کہ نیب بزنس مین کمیونٹی کیخلاف زیادتی کررہا ہے۔

جسٹس (ر) جاوید اقبال کا کہنا تھا کہ اصل بزنس مین اور ڈکیت میں فرق کو رواں رکھناہے، دونمبر بزنس مین کو ڈکیت کہنے میں مجھے کوئی ہچکچاہٹ نہیں، ہم نے شارک، مگر مچھوں کوپکڑاان سے بڑی حیات توسمندرمیں کوئی نہیں، چھوٹی مچھلیاں تو نکل جاتی ہیں۔

پلی بارگین کے حوالے سے چیئرمین نیب نے مزید کہا کہ پلی بارگین نیب اپنی مرضی سے نہیں کرتا، یہ قانون میں موجودہے، پلی بارگین کا حتمی فیصلہ عدالت کا ہوتاہے، کیا کچھ لوگ سپریم کورٹ سے زیادہ ذہین اورلائق ہیں، پلی بارگین ختم کرکے آپ کیا طریقہ کاراختیار کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ آپ کوئی بھی ترامیم کریں پارلیمنٹ کومکمل اختیارہے، کوئی ترمیم حکومتی لوگوں کےذہن میں ہے تواسفندیارولی کا کیس پڑھ لیں، کوئی ترمیم حکومتی لوگوں کےذہن میں ہے تواسفندیارولی کا کیس پڑھ لیں۔

جاوید اقبال نے کہا کہ سادہ فہم قانون بنائیں ترمیم ایسی کریں جو لوگوں کی بہتری کیلئے ہوں ، ایسی ترمیم کریں کہ لوگوں کیساتھ ایسی ڈکیتیاں نہ ہوں، نیب آرڈیننس میں ترمیم کا شوق ہے تو اسفندیارولی کیس دیکھ لیں، جواصل بزنس میں ہےاس کو نیب سے کبھی شکایت نہیں ہوگی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں