The news is by your side.

Advertisement

احتساب کرنا اگر جرم ہے، تویہ جرم ہوتا رہے گا: چیئرمین نیب

ہمارا الیکشن سے کوئی لینا دینا نہیں ہے، احتساب اس لیےنہیں روکیں گے کہ الیکشن آگئے ہیں

اسلام آباد: چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال نے کہا ہے کہ نیب کے نوٹس میرے ذاتی دعوت نامے نہیں ہوتے، قومی ادارےکی طرف سے نوٹس دیا جاتا ہے.

ان خیالات کا اظہار انھوں نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا. چیئرمین نیب جاوید اقبال نے ادارے پر ہونے والی تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ آپ کی عزت کو ملحوظ خاطر رکھ  کرنوٹس بھجوایا جاتا ہے، کوئی بھی جب نیب آفس آتا ہے، تو اسے پہلے چائے پلائی جاتی ہے، عزت سے پوچھا جاتا ہے کہ آپ سرکاری خزانے کے امین تھے.

انھوں نے کہا کہ جو افراد نیب دفتر آتے ہیں، ان سے پوچھا جاتا ہے کہ سرکاری خزانے کی رقم کہاں خرچ کی گئی، یہ پوچھنا کون سا گناہ ہے کہ کرپشن کہاں، کیسے، کس کے کہنے پر ہوئی.

جسٹس (ر) جاوید اقبال نے کہا ہے کہ احتساب کرنا اگر جرم ہے، تویہ جرم ہوتا رہے گا، احتساب کرنا قوم کے مفاد میں ہے، انسداد کرپشن تک محب وطن اطمینان کا سانس نہیں لےسکتا.

انھوں نے کہا کہ ایک صاحب کہتے ہیں، نیب کا ایکشن قبل ازانتخابات دھاندلی ہے، نیب کا دھاندلی سے کیا تعلق ہے، ہمارا الیکشن سے کوئی لینا دینا نہیں ہے، عوام جانے ان کاووٹ جانے، احتساب اس لیےنہیں روکیں گے کہ الیکشن آگئے ہیں۔

انھوں نے مزید کہا کہ لوگوں کو ڈرنےکی ضرورت نہیں، نیب کی ہرکارروائی بلاخوف اوربلاامتیاز ہوگی، نیب کی کسی سےکوئی دشمنی نہیں، وفاداری صرف پاکستان سے ہے۔

یاد رہے کہ گذشتہ چند روز سے وزیراعظم، وزیراعلیٰ اور سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کی جانب سے چیئرمین نیب پر شدید تنقید کی جارہی ہے.

اب چیئرمین نیب کی جانب سے دو ٹوک جواب آیا ہے، جس میں واضح کیا ہے کہ نیب کا نوٹس قومی ادارے کا نوٹس ہوتا ہے، احتساب کرنا قوم کے مفاد میں ہے.


چیئرمین نیب 24 گھنٹے میں ثبوت لائیں ورنہ مستعفی ہوں: نواز شریف


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔ 

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں