The news is by your side.

Advertisement

عید کے دنوں میں ہونے والی ایس او پیز کی خلاف ورزی کے نتائج سامنے آئیں گے، چیئرمین این ڈی ایم اے

اسلام آباد:نیشل ڈیزاسٹر مینیجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل محمد افضل نے کہا ہے کہ عوام نے عید الفطر کے دنوں میں ایس او پیز کی خلاف ورزی  کی جس کے نتائج سامنے آئیں گے۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل محمد افضل کا کہنا تھا کہ وینٹی لیٹرز کےحوالے سے پاکستان میں حالات کنٹرول میں ہیں مگر یہ عید ایس اوپیز کی بڑی خلاف ورزی پر گزاری گئی ہے جس کے نتائج ضرور سامنےآئیں گے۔

اُن کا کہنا تھا کہ شہری ایس او پیز پر عمل کریں اور بنا ضرورت گھر سے باہر نہ نکلیں کیونکہ جون کا مہینہ خطرناک ثابت ہوسکتا ہے، پاکستان میں پبلک اور پرائیوٹ سیکٹر میں 4 ہزار 200 کے قریب وینٹی لیٹرز  موجود ہیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ ’ابھی تک کرونا کے لیے مختص وینٹی لیٹرز میں سے پچاس فیصد سے زائد بھی استعمال نہیں ہوئے، حالات خراب رہے تو جون کے آخر  تک مزید دو ہزار وینٹی لیٹرز درکارہوں گے، ہم نے اسی خطرے کے پیش نظر مختلف ممالک سے وینٹی لیٹرز منگوانا شروع کردیے ہیں۔

چیئرمین این ڈی ایم اے کا کہنا تھا کہ 110پورٹیبل،183آئی سی یو  وینٹی لیٹرز  ویئر  ہاؤس میں موجود ہیں،فیصل آبادڈی ایچ کیو میں 12وینٹی لیٹرز  ہیں جن میں سے 5 کرونا مریضوں کے لیے مختص ہیں، 31مئی تک 585 اضافی وینٹی لیٹرز  ہمارے  ویئر  ہاؤسز  میں موجود ہوں گے۔

لیفٹیننٹ جنرل محمد افضل کا کہنا تھا کہ حکومت  اور این ڈی ایم اے آئندہ دنوں کیلئے حکمت عملی کیساتھ چل رہی ہے،ہم نے 1310 وینٹی لیٹرز کا  آرڈر کیا  ہے جبکہ امریکا نے دو سو وینٹی لیٹرز عطیہ کرنے کی بھی پیش کش کی جن میں سے دو جون تک 100 وینٹی لیٹرز پاکستان پہنچ جائیں گے۔

انہوں نے بتایا کہ دو جون تک جو وینٹی لیٹرز پاکستان آئیں گے اُن میں سے 30 پشاور اور اتنے ہی کراچی بھیجے جائیں گے جبکہ 15، 15 کوئٹہ لاہور اور 10 فیصل آباد بھیجے جائیں گے، ان وینٹی لیٹرز کو چلانے کیلئے عملہ درکار ہوتا ہے، عیدکےبعد اضافی وینٹی لیٹرز کیلئےتمام صوبائی حکومتیں کام شروع کریں گی۔

انہوں نے بتایا کہ ’ ملک بھر میں اس وقت 128 مریض  وینٹی لیٹرز  پر موجود ہیں، پبلک سیکٹر میں 365اسپتالوں کو کرونا  کے لئے استعمال کیاجارہا ہے  جن میں 10 ہزار 944 آئی سی یو بیڈز ہیں،اُن میں سے ابھی تک 2211 آئی سی یو بیڈز استعمال کئے گیے ہیں، 52پرائیوٹ اسپتالوں کی بھی ایمرجنسی کی صورت میں نشاندہی کی گئی ہے جن کے پاس 679 آئی سی یو بیڈز موجود ہیں‘۔

اُن کا کہنا تھا کہ وینٹی لیٹرز کی خریداری میں عملے کی تربیت اورانسٹالیشن شامل ہے، کسی کو بیڈ نہ ملنے یا اسپتال میں مشکلات کا سامنا ہو تو وہ این ڈی ایم اے کو آگاہ کر سکتا ہے، اب میڈیکل آلات پوری طرح سے پاکستان میں تیار ہورہے ہیں۔

چیئرمین این ڈی ایم این اے نے عوام سے اپیل کی کہ وہ وزارت صحت کی جانب سے جاری ہونے والی ایڈوائزری پر بھرپور طریقے سے عمل کریں کیونکہ عید پر ایس او پیز کی کھل کر خلاف ورزی کی گئی، جب جب ایس او پیز کو بالائے طاق رکھا جائے گا تب تب خوفناک نتائج سامنے آئیں گے۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں