site
stats
سندھ

پی آئی اے میں انتظامیہ کا اختیار نہ ہونے کے برابر ہے، چیئرمین اعظم سہگل

کراچی : چیئرمین پی آئی اے اعظم سہگل نے کہا ہے کہ ادارے میں انتظامیہ کی عمل داری اور اختیار نہ ہونے کے برابر ہے۔ اس کی بڑی مثال عملے اور طیاروں کی تعداد کا تناسب ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی اردو کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے کیا۔ پاکستان کی قومی فضائی کمپنی پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کارپوریشن لمیٹڈ کے چیئرمین اعظم سہگل کا کہنا تھا کہ پی آئی اے میں مستقل ملازمین اندازاً 14 ہزار ہیں اور چار ہزار کے قریب دہاڑی دار ہیں جو عرصے سے کام کر رہے ہیں تب سے جب ہمارے پاس 14 یا 15 طیارے تھے۔

ہمیں اب دستیاب طیاروں کے حساب سے چار ہزار افراد کی ضرورت ہے۔ آپ اس سے اندازہ لگا لیں کہ ہماری انتظامیہ کی اس پی آئی اے میں عملداری کتنی ہے۔

انہوں نے کہا کہ عملے کے انتخاب سے لے کر اگر کمپنی کارکردگی کی بنیاد پر کسی کو برخاست کرنا چاہے تو بھی نہیں کر سکتی۔

انہوں نے کہا کہ وہ تسلیم کرتے ہیں کہ ’انتظامیہ کی عملداری بالکل نہیں ہے۔ ہماری انتظامیہ کی طاقت بالکل نہیں ہے۔‘ اور یہ خیال بھی ایک حد تک درست ہے کہ پی آئی اے کی ’انتظامیہ یونینز کے ہاتھوں یرغمال بنی ہوئی ہے۔

اعظم سہگل نے بتایا کہ ایئرلائن میں احتساب کے فقدان کی بڑی وجہ یونین اور ایسوسی ایشنز کا حد سے زیادہ اثر و رسوخ ہے۔

پی آئی اے کی نجکاری کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ ہڑتال اور بعد میں سیاسی جماعتوں کی مخالفت کی وجہ سے ’حکومت نے 26 فیصد حصص کی نجکاری کرنے کے فیصلے کو بدلا اور اب کمپنی کا انتظام حکومت کے پاس رہے گا۔ حکومت 51 فیصد حصص اپنے پاس رکھے گی۔

پی آئی اے کے عملے سے مسافروں کی شکایات اور عملے کے مختلف جرائم میں مبینہ طور پر ملوث ہونے کے حوالے سے اعظم سہگل کا کہنا تھا کہ ’اس کا مکمل الزام پی آئی اے پر لگا دینا مناسب نہیں کیونکہ افرادی قوت کی تعداد اور ان کی سروس کا معیار یونینز اور ایسوسی ایشنز قائم کرتی ہیں انتظامیہ نہیں۔

جب اُن سے پوچھا گیا کہ گذشتہ دنوں ہڑتال کے بعد شوکاز نوٹس جاری کیے گئے مگر کارروائی کچھ نہیں ہوئی تو اعظم سہگل کا کہنا تھا کہ ’میرے نزدیک بدقسمتی میں اس معاملے کو برے طریقے سے ہینڈل کیا گیا ہم نے لوگوں کی شناخت کی سزا دی انہیں ملازمتوں سے نکالا ان کے خلاف کیس درج کروائے مگر کسی نہ کسی طریقے سے وہ سب لوگ واپس پی آئی اے میں پہنچ گئے۔

 

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top