آئین کو تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی تو لانگ مارچ بھی کر سکتے ہیں: بلاول بھٹو -
The news is by your side.

Advertisement

آئین کو تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی تو لانگ مارچ بھی کر سکتے ہیں: بلاول بھٹو

پورے ملک کے پریس کلبز کے مسائل حل کرنے کی کوشش کروں گا

کراچی: چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ آئین کو تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی تو لانگ مارچ بھی کر سکتے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق چیئرمین پی پی نے کراچی پریس کلب میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں پریس کلب کو ایک ادارہ بنایا جائے، پورے ملک کے پریس کلبز کے مسائل حل کرنے کی کوشش کریں گے۔

اٹھارویں ویں ترمیم ہم نے جدوجہد کے بعد پاس کی، حملے برداشت نہیں کر سکتے۔

بلاول بھٹو زرداری چیئرمین پی پی

بلاول بھٹو نے کہا ’مجھے پریس کلب کو درپیش مسائل کا علم ہے، انھیں حل کیا جا سکتا ہے، جہاں بھی دورے پر جاؤں کوشش کروں گا کہ وہاں پریس کلب بھی جاؤں۔‘

چیئرمین پی پی کا کہنا تھا کہ ہم پر تنقید ہوتی ہے لیکن اس کا برا نہیں مانتے، پیپلز پارٹی صحافی دوستوں کے لیے آسان ہدف ہے، ہم صحافیوں کے لیے دوسری پارٹیوں کی طرح ہتھکنڈے نہیں کرتے، تنقید ضرور کریں لیکن ہمیں آپس میں بھی بیٹھنا چاہیے۔

بلاول بھٹو کا یہ بھی کہنا تھا کہ صحافیوں کے تحفظ اور آزادیٔ اظہار کے لیے قانونی سازی کرنی ہوگی، اس وقت اٹھارویں آئینی ترمیم اور جمہوریت پر حملے ہو رہے ہیں، آئین کو تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی تو لانگ مارچ بھی کر سکتے ہیں، 18 ویں ترمیم ہم نے جدوجہد کے بعد پاس کی، حملے برداشت نہیں کر سکتے۔

یہ بھی پڑھیں:  اسلام آباد، راولپنڈی، پشاور، کوہاٹ میں زلزلے کے جھٹکے

پی پی چیئرمین نے صحافیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں مل کر جدوجہد کرنی ہے، ہمیں عدالتی نظام اور پارلمانی فورم کو استعمال کرنا پڑے گا، دیگر ادارے خود کو طاقت ور بنا سکتے ہیں تو پارلیمان طاقت ور کیوں نہیں بن سکتا۔

انھوں نے کہا ’میں پارلیمانی سیاست کرنا چاہتا ہوں، حکومت کو عوام پر ظلم کرنے کی اجازت نہیں دے سکتا، ہم پورے سندھ میں کینسر ریسرچ سینٹر بنائیں گے۔‘

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں