site
stats
پاکستان

پی ایس ایل کا اگلا فائنل کراچی میں کرائیں گے، نجم سیٹھی

کراچی : پاکستان سپرلیگ کے چیئرمین نجم سیٹھی نے وعدہ کیا ہے کہ اگلے سال فائنل کراچی میں کرانے کی کوشش کریں گے، گورنر سندھ کا کہنا ہے پی ایس ایل کراچی کا مثبت رخ ہے اورشہر کے اس رخ کو اجاگر کرنے کی ضرورت ہے،کراچی کنگز کےمالک سلمان اقبال نے کہا کہ اس سال فائنل لاہورمیں ہورہا ہے،ایک سیمی فائنل کراچی میں بھی کرایا جائے تو بہترہوگا۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے اے آر وائی نیوز کے پروگرام الیونتھ آورمیں میزبان وسیم بادامی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کیا، پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے نجم سیٹھی نے کراچی کنگز کو پی ایس ایل کی فیورٹ ٹیم قرار دیا۔

انہوں نے وعدہ کیا کہ اگلے سال فائنل کراچی میں کرانے کی کوشش کریں گے، آپ بھی دعا کریں آئندہ سال پی ایس ایل فائنل کراچی میں کھیلیں، انہوں نے کراچی کنگز کو پی ایس ایل کی فیورٹ ٹیم قرار دیتے ہوئے کہا کہ کراچی کنگز جب میدان میں اترے گی تو میدان جنگ کا منظر ہی کچھ اورہوگا سب کراچی والے کراچی کنگز ہیں۔

نجم سیٹھی کا کہنا تھا کہ جب فرنچائز کو محنت کرتا دیکھتاہوں تو بہت خوشی ہوتی ہے، پی ایس ایل کا جوش وخروش پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔ کسی کواحساس نہیں تھا کہ پی ایس ایل اتنا کامیاب ہوگا، ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پی سی بی میں کرکٹ کےمعاملات چیئرمین دیکھ رہےہیں، عمران خان کرکٹ کے معاملات چلانا چاہتے ہیں تو ہم ان کا خیرمقدم کریں گے۔

پروگرام میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کراچی کنگز کے مالک اور اےآر وائی نیٹ ورک کے سی ای او سلمان اقبال نے کہا کہ شہر قائد کی رونقیں ختم نہیں ہوئیں، کراچی کے لوگ کل اسٹیڈیم ضرورآئیں گے، چاہتاہوں شائقین کرکٹ زیادہ سے زیادہ تعداد میں اسٹیڈیم کا رخ کریں۔

انہوں نے کہا کہ جیت کیلیے اس سال بھی پوری کوشش کریں گے، ہماراکام ہے کہ بہترین سےبہترین ٹیم بنائیں، میدان میں کھیلنا کھلاڑیوں کا کام ہے، عوام میں بہت زیادہ جوش وخروش ہے، جنگ میدان میں ہے اور میدان سے باہر ہم سب پاکستانی ہیں، چاہتےہیں نجم سیٹھی نے جو کام شروع کیا حکومت اس کاحصہ بنے۔

سلمان اقبال نے کہا کہ فائنل لاہور میں ہے اور ایک سیمی فائنل کراچی میں بھی کرالیں تو بہتر ہوگا، گورنر سندھ محمد زبیر نے کہا کہ کراچی کنگز کی لانچنگ اہم تقریب ہے، کراچی کاماحول تبدیل کرنے میں کھیل اہم کردارادا کرسکتاہے۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top