The news is by your side.

عمران خان نے اگلے لائحہ عمل کا اعلان کردیا

لاہور: چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے اگلے لائحہ عمل کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ میں اپنی عوام کو تیار کرنے کیلئے پورے ملک میں نکل رہا ہوں۔

لاہور کے ہاکی اسٹیڈیم میں حقیقی آزادی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے کہا کہ آج لاہور جس طرح اسٹیڈیم میں جشن آزادی منانے آیا انہیں مبارکباد دیتا ہوں، وہ ملک خوش قسمت ہے جس میں ایسے باشعور اور جنونی نوجوان ہوتے ہیں اور جس کی مائیں اور بہنیں آزادی کا جذبہ رکھتی ہیں۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ ملک کی بڑی جماعت کو فوج کے سامنے کھڑے کرنے کی سازش کی جارہی ہے، مجھ پر شہدا کیخلاف بات کرنے کا الزام لگایا جارہا ہے میں ان سے کہتا ہوں شرم کرو، عمران خان کبھی نہیں چاہے گا فوج کمزور ہو، پاکستان میں بہت بیرونی سازشیں ہیں، یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ میں ملک کی فوج کو کمزور ہونے دوں گا۔

انہوں نے کہا کہ میری خواہش ہے پاکستان کی فوج مضبوط سے مضبوط ہو، میں نے ہمیشہ کہا ہے ہماری فوج کیخلاف کبھی کوئی بات نہ کریں، مجھ سے زیادہ اس ملک کو فوج کی ضرورت ہے، آج مہم چلائی جارہی ہے کہ ہم پی ٹی آئی والے فوج کیخلاف ہیں، جو لوگ ملک میں حقیقی آزادی چاہتے ہیں وہ ہمیشہ چاہیں گے ہماری فوج مضبوط ہو، میں جب تنقید کرتا ہوں تو میری تنقید تعمیری ہوتی ہے، میری تنقید اصلاح کیلئے ہوتی ہے۔

عمران خان نے کہا کہ آج میں نے حقیقی آزادی کا روڈ میپ دینا ہے، ہم نے حقیقی آزادی حاصل کرنے کیلئے کیا قدم اٹھانے ہیں پوری قوم کو وہ راستہ بتاؤں گا۔ انہوں نے جلسہ میں آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ میں اپنی عوام کو تیار کرنے کیلئے پورے ملک میں نکل رہا ہوں، آصف زرداری کا مقابلہ کرنے سندھ بھی جاؤں گا، آصف زرداری نے سندھ کے لوگوں کو غلام بنایا ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آئندہ ہفتے راولپنڈی پھر کراچی جلسہ کرنے جارہا ہوں، اس کے بعد سکھر، حیدرآباد، پشاور، مردان، اٹک، اسلام آباد، ملتان، بہاولپور، سرگودھا، جہلم، گجرات، فیصل آباد، گوجرانوالہ اور کوئٹہ بھی جاؤں گا۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ ہماری حقیقی آزادی کی جنگ اب آخری اور فیصلہ کن مرحلے پر ہے، سب کو پیغام پہنچادیا ہے کہ اب تیاری کریں، ٹائیگر فورس کو بھی متحرک کررہا ہوں، میری حقیقی آزادی کا پیغام گھر گھر لوگوں کے پاس لے کر جانا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اب ان کا نیامنصوبہ ہے عمران خان کیخلاف کیسز کرو، توشہ خانہ اور فنڈنگ کیس بنا کر عمران خان کو نااہل کرو، تاکہ نوازشریف کو کسی طرح واپس لایا جاسکے۔

عمران خان نے کہا کہ منصوبے کے تحت یہ کوشش کرینگے نوازشریف کی نااہلیت ختم کردیں، منصوبہ بنانے والو کان کھول کر سن لو عمران خان کوئی ڈیل نہیں کریگا، ان لوگوں نے پاکستان کے عوام کا پیسہ چوری کرکے اربوں کی جائیداد بنائی، کہتے ہیں جو 30 سال سے پیسہ چوری کررہا ہے اس کا عمران خان کیساتھ موازنہ کریں۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ 4 قسم کی غلامی ہوتی ہے، قائداعظم محمدعلی جناح نے ہمیں ایک غلامی سے آزادی دلوائی، انہوں نے کہا تھا ہم انگریز کی غلامی سے نکل کر ہندوؤں کی غلامی میں نہیں جانا چاہتے، ہم ایک آزاد ملک بنانا چاہتے ہیں اور مسلمان ہمیشہ آزادی کیلئے جدوجہد کرتا ہے، جب پاکستان بن رہا تھا تو ایک نعرہ تھا پاکستان کا مطلب کیا لاالہ الااللہ۔

عمران خان نے کہا کہ ہم کلمہ پڑھتے ہیں تو اللہ سے وعدہ کرتے ہیں، اے اللہ تیرے علاوہ کسی کے سامنے نہیں جھکیں گے، شروع میں ہمیں بتایا گیا کہ پتھروں کے آگے جھکنا شرک ہے، جب بھی ضمیر کا سودا کرکے جھوٹے خدا کے سامنے جھکتے ہو تو شرک کرتے ہو۔

انہوں نے کہا کہ خوف بھی ایک غلامی ہوتی ہے، لاکھوں قربانیوں کے بعد پاکستان بنا، جو قوم غلامی کرتی ہے اس کی عزت نفس ختم اور احساس کمتری ڈال دیتی ہے، ایسی احساس کمتری تھی کہ پاکستانی انگریز بننا چاہتے تھے، یہ غلامی تھی۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ کرکٹ کے دنوں میں میرے سینئر پلیئر کہتے تھے کہ سوچو بھی نہ کہ ہم انگریز کو ہرا سکتے ہیں، کہتے تھے شکر کرو عزت سے ہار کر آگئے، یہ احساس کمتری تھی، بڑے بڑے میچز احساس کمتری کی وجہ سے ہار جایا کرتے تھے۔

انہوں نے کہا کہ ذہنی طور پر ہم آزاد ہوئے تو ہم نے ہارے ہوئے میچ بھی جیتے، آج پاکستان کا بھی یہ ہی حال ہے، احساس کمتری سے ہم اب تک نہیں نکلے، پہلی غلامی سے تو ہمیں قائداعظم نے آزاد کرایا، 3 مزید قسم کی غلامی ہے جن سے ہمیں چھٹکارا حاصل کرنا ہے۔

عمران خان نے کہا کہ دوسری قسم کی غلامی ذہنی ہے، ہم نے نبی ﷺ کی سیرت پر چلتے ہوئے اپنے ملک کے نوجوانوں کو ذہنی طور پر آزاد کرنا ہے، نبیﷺنے انسانوں کو بتایا خوف کی غلامی سب سے خوفناک ہے، آج کل پاکستانیوں پر خوف کی غلامی طاری کی جارہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ تیسرا خوف کاروبار، رزق اور نوکری جانے کا ہوتا ہے، انسان سمجھتا ہے کہیں میری نوکری یا کاروبار نہ چلا جائے، سیاست میں آیا تو پڑھے لکھے اور ایماندار لوگ کہتے تھے سیاست ہمیں گندا کردے گی، 26 سال سے میری کردارکشی کی جارہی ہے، لیکن اللہ کی شان دیکھیں آج بڑی تعداد میں لوگ آئے ہیں اور حوصلہ افزائی کررہے ہیں، اللہ قرآن میں کہتے ہیں عزت اور ذلت ان کے ہاتھ میں ہے۔

عمران خان نے کہا کہ پیسوں والے لوگ عزت خرید سکتے تھے لیکن ایسا نہیں ہے، زندگی اور موت بھی اللہ کے ہاتھ میں ہے، جو شخص موت سے ڈرتا ہے وہ آج تک کوئی بڑا کام نہیں کرسکا۔

 

Comments

یہ بھی پڑھیں