The news is by your side.

عمران خان کا آئی جی اور ڈی آئی جی اسلام آباد کیخلاف کیس کرنے کا اعلان

اسلام آباد: چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان نے شہباز گل پر مبینہ تشدد کے خلاف آئی جی اور ڈی آئی جی اسلام آباد پر کیس کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ انہیں نہیں چھوڑیں گے۔

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شہباز گل پر تشدد اور اے آر وائی نیوز کی بندش کے خلاف اسلام آباد میں نکالی گئی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ آج تمام پاکستانیوں کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں، صرف 24 گھنٹے کے نوٹس پر میری کال پر بڑی تعداد میں عوام باہر نکلی۔

عمران خان نے کہا کہ باشعور قوم آج حقیقی آزادی کی تحریک کیلئے باہر نکلی، چنگیز خان کسی شہر کو فتح کرتا تھا تو وہاں ظلم دکھا کر خوف پھیلاتا تھا، چنگیز خان کا خوف لوگوں میں آتا تھا تو لوگ لڑے بغیر پیچھے ہٹ جاتے تھے،  آج پاکستان میں بھی لوگوں کو غلام بنانے کیلئے دہشت پھیلائی جارہی ہے، شہباز گل کو ان کی باتوں پر نہیں پکڑا گیا بلکہ خوف پھیلانے کیلئے پکڑا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ شہباز گل نے جو کہا اس سے بہت زیادہ باتیں نواز شریف، زرداری، مریم، خواجہ آصٖف، فضل الرحمان کرچکے ہیں، شہباز گل پر قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے تشدد کیا گیا، شہباز گل پر تشدد کرکے بتایا گیا کہ ہم قانون سے بالاتر ہیں کچھ بھی کرسکتے ہیں، عوام کو بتانے کی کوشش کی گئی کہ ہم کسی کیساتھ کچھ بھی کرسکتے ہیں۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ خوف پھیلا کر ان چوروں کو ہم پر مسلط کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، سب سن لو یہ قوم جاگ گئی ہے اور اس میں شعورآگیا ہے، اب جو مرضی کرلیں، میڈیا کو ڈرانے اور خوف پھیلانے سے کچھ نہیں ہوگا، چیلنج کرتا ہوں جو مرضی کرنا ہے کرلیں عوام کے سمندر کو روک نہیں سکتے، سیاسی جدوجہد میں دیکھ رہا ہوں، پہلی مرتبہ سوئی ہوئی قوم جاگ رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کہ اگر کوئی یہ سوچتا ہے کہ شہباز گل کیساتھ جو ہوا اس کو دیکھ کر ہم ان مسلط چوروں کو قبول کرلیں گے تو یہ نہیں ہوسکتا، ہلاکو خان نے جو شہبازگل پر ظلم ڈھائے اس کی وجہ سے ہم اپنے مقصد سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

عمران خان نے کہا کہ شہباز گل پر 2 دن بدترین تشدد کیا گیا، شہباز گل کی صحت کا معلوم تھا لیکن انہیں ضمانت نہیں دی گئی، انہیں ایسے رکھا گیا جیسے پتہ نہیں ملک کے کسی بڑے غدار کو پکڑلیا، شرم کرو، آئی جی اور ڈی آئی جی اسلام آباد، ایک شخص پر اس قسم کا بدترین تشدد کیا گیا۔

چیئرمین تحریک انصاف نے کہا کہ آئی جی اسلام آباد اور ڈی آئی جی اسلام آباد کیخلاف کیس کریں گے انہیں نہیں چھوڑیں گے، خواجہ آصف دوستیوں کی وجہ سے کچھ نہیں کہا جاتا، خواجہ آصف، راناثنااللہ اور فضل الرحمان سب پر ہم کیسز کریں گے، ہم سپریم کورٹ جارہے ہیں، قانون کی بالادستی سپریم کورٹ کی ذمہ داری ہے، معزز عدلیہ سے درخواست ہے قوم آپ کی طرف دیکھ رہی ہے۔

چیئرمین تحریک انصاف نے کہا کہ آج عوام کو 2 وجہ سے احتجاج کی کال دی تھی، ایک شہباز گل کیساتھ جو ہورہا ہے اس پر اور دوسرا اے آر وائی نیوز سے اظہار یکجہتی کیلئے کیونکہ عوام کا مقبول چینل ہے، اے آر وائی نیوز کو حق اور سچ سامنے لانے پر بند کیا گیا، اے آر وائی نیوز ہمارا مؤقف سامنے لارہا تھا اس لیے اسے بند کیا گیا، انہوں نے گھٹنے نہیں ٹیکے، باقی چینلز میں خوف پھیلایاگیا۔

انہوں نے کہا کہ اے آر وائی نیوز کو جو بند کیا جارہا ہے، میڈیا پر اس قسم کا دباؤ کبھی نہیں دیکھا، ہم اقتدار سے ہٹے تو میڈیا نے بالکل ہمارا بلیک آؤٹ کردیا، صرف اے آر وائی نے دکھایا، جس پر اے آر وائی نیوز کو خوفزدہ کیا گیا اور ان کے اینکرز پر کیسز بنائے گئے۔

عمران خان نے کہا کہ صابر شاکر، ارشدشریف ملک سے باہر چلے گئے، عمران ریاض پر کیس بنائے گئے جیل میں ڈالا گیا، ایاز امیر پر تشدد اور خوفزدہ کرنے کی کوشش کی گئی، سمیع ابراہیم کو تنگ کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ آج پھر کہتا ہوں ان چوروں کو ہم پر مسلط کرنے میں آپ کامیاب نہیں ہونگے، اے آر وائی نیوز کو بند کیا گیا تو دوسرے چینل نے ہماری کوریج کی اس کی ریٹنگ اوپر آگئی، کوئی یہ سمجھتا ہے ہماری آوازبند کریں گے تو کوئی نہیں روک سکتا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں