The news is by your side.

عمران خان نے نیب ترامیم کو سپریم کورٹ میں چلینج کردیا

پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ اور سابق وزیراعظم عمران خان نے نیب ترامیم کیخلاف آئینی درخواست سپریم کورٹ میں داخل کردی ہے۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ اور سابق وزیراعظم عمران خان نے نیب ترامیم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا ہے اور ان ترامیم کے خلاف ایک آئینی درخواست سپریم کورٹ میں داخل کی ہے جس میں عدالت عظمیٰ سے اختیارات سے تجاوز کو جائز قرار دینے کی کوشش ناکام بنانےکی اور نیب قوانین میں ترامیم کو خلاف آئین قرار دیکر فوری طور پر کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے۔

سابق وزیراعظم عمران خان نے خود بطور درخواست گزار پٹیشن سپریم کورٹ کے روبرو جمع کروائی، درخواست آئین کے آرٹیکل 184(3) کے تحت دائر کی گئی ہے جس میں وفاق پاکستان اور نیب کو بھی فریق بنایا گیا ہے، عدالت عظمیٰ میں ماہر قانون خواجہ حارث عمران خان کے مؤقف کی وکالت کرینگے۔

عمران خان نے معاملہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے روبرو اٹھاتے ہوئے درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ ترامیم کرنے والوں نے اپنی ذات کو بچانے کیلئے نیب قانون کا حلیہ ہی بدل دیا گیا ہے ان ترامیم کے بعد بیرون ملک سے آئے شواہد عدالت میں قابل قبول نہیں ہونگے۔

درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ نیب قانون کے سیکشن 2،4،5، 6،14، 15، 21، 23، 25 اور 26 میں ترامیم آئین کے منافی ہیں، ترامیم آرٹیکل 9،14،24،25اور19 اے کے بنیادی حقوق کے خلاف ہیں، اس لیے استدعا کی جاتی ہے کہ نیب قانون میں کی گئی یہ تمام ترامیم کالعدم قرار دی جائیں۔

درخواست میں یہ بھی استدعا کی گئی ہے کہ بے نامی تعریف میں رد وبدل سے احتساب کی ہیئت بدلنے کے معاملے کو دیکھا جائے اور 1200 میں سے 1100 ارب کے مقدمات نیب دائرہ کار سے نکالنے کی کوشش کو روکا جائے۔

سابق وزیراعظم عمران خان آج شام اپنے اہم خطاب میں اس حوالے سے تفصیلات قوم کے سامنے رکھیں گے۔

واضح رہے کہ موجودہ اتحادی حکومت نے گزشتہ ہفتے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں نیب ترمیمی بل منظور کرایا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: نیب قانون میں ترامیم : نیب کے کون کون سےاختیارات ختم ہوں گے؟

اس نیب ترمیمی بل کے بعد صرف اثاثوں پر کیس نہیں بن سکے گا پہلے کرپشن ثابت کرنا ہوگی اور ثبوت پیش کرنے کا مکمل بوجھ ملزم کی بجائے نیب پر ہوگا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں