The news is by your side.

چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کی نامزدگی، پی پی اور پی ٹی آئی ایک نقطے پر متفق

کراچی:  تحریک انصاف اور پیپلزپارٹی میں چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے لیے معاملات طے پاگئے، جس کے مطابق چیئرمین بلوچستان سے جبکہ ڈپٹی چیئرمین پی پی سے ہوگا۔

تفصیلات کے مطابق سینیٹ انتخابات کے بعد چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین منتخب کرانے کے لیے سیاسی جماعتیں کافی متحرک ہیں، ایوان بالا کےچیئرمین اور ڈپٹی کی نامزدگی کل ہونی ہے۔

ذرائع کے مطابق تحریک انصاف اور پیپلزپارٹی میں چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے لیے معاملات طے ہوچکے، دونوں جماعتوں کی قیادتیں اس بات پر متفق ہوگئیں کہ چیئرمین بلوچستان سے جبکہ ڈپٹی چیئرمین پیپلزپارٹی سے ہوگا۔

ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے صادق سنجرانی چیئرمین سینیٹ کے امیدوار ہوں گے جبکہ ڈپٹی چیئرمین کے لیے پیپلزپارٹی کے سلیم مانڈوی والہ کے نام پر حتمی اتفاق کر لیا گیا۔

مزید پڑھیں: تحریک انصاف نےچیئرمین سینیٹ کی نامزدگی کےحوالےسے فیصلہ کرلیا

اس ضمن میں تحریک انصاف کے رہنماء فیصل واوڈا نے پیش گوئی کی ہے کہ چیئرمین سینیٹ کا تعلق بلوچستان جبکہ ڈپٹی چیئرمین پیپلزپارٹی سے منتخب ہوگا۔ اُن کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف اور پیپلزپارٹی کے معاملات اگر طے ہوگئے تو اس میں کوئی بری بات نہیں کیونکہ سیاست میں لچک دکھانی پڑتی ہے، اس وقت سب سے بڑا اور اہم کام یہ ہے کہ مسلم لیگ ن کو  چیئرمین لانے سے کسی بھی طرح روکا جائے۔

فیصل واوڈا کا مزید کہنا تھا کہ نوازشریف نے فیصلہ کررکھا ہے کہ اگر چیئرمین اور ڈپٹی مسلم لیگ ن کا ہوا تو عدلیہ مخالف قوانین ایوانِ بالا سے منظور کروائے جائیں گے جس کی وجہ سے ملک کو نقصان ہوسکتا ہے۔

قبل ازیں وزیراعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو کی قیادت میں آنے والے بلوچستان کے آزاد سینیٹرز کے وفد نے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان سے بنی گالہ میں ملاقات کی اور صادق سنجرانی کو بطور چیئرمین سینیٹ امیدوار نامزد کرنے کا فیصلہ کیا۔ پاکستان تحریک انصاف کے ترجمان کے مطابق ملاقات کے دوران صادق سنجرانی کو متفقہ طور پرچیئرمین سینیٹ نامزدگی کا فیصلہ کیا گیا۔

مزید پڑھیں: بلوچستان سے چیئرمین سینیٹ‌ کا انتخاب ایک مثبت تجویز ہے: بلاول بھٹو کا اشارہ

خیال رہے کہ گزشتہ روز پی ٹی آئی چیئرمین کا کہنا تھا کہ پہلی باربلوچستان سے چیئرمین سینیٹ بنے گا، بلوچستان کو پیشگی مبارک باد دیتا ہوں۔ عمران خان کے اس خیال کو بلاول بھٹو نے سراہتے ہوئے اچھی روایت قرار دیا تھا۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں