senate دھرنے والوں سے راتوں رات معاہدہ کرنے پرچیئرمین سینیٹ برہم
The news is by your side.

Advertisement

دھرنے والوں سے راتوں رات معاہدہ کرنے پرچیئرمین سینیٹ برہم

اسلام آباد : چیئرمین سینیٹ نے کہا ہے کہ ایوان کو اعتماد میں لیے بغیر دھرنے والوں سے راتوں رات معاہدہ کرلیا گیا، ہم یہاں کس لئے بیٹھے ہیں؟ حکومت ٹھیکے پر دے دی جائے، میاں رضاربانی نے وضاحت کیلئے وزیر داخلہ کو طلب کرلیا۔

تفصیلات کے مطابق سینیٹ کا اجلاس میاں رضاربانی کی زیر صدارت ہوا، اجلاس میں چیئرمین سینیٹ حکومت اور مظاہرین کے درمیان ہونے والے معاہدے پر برھم ہوئے اور وزیرمملکت طلال چوہدری پربرس پڑے۔

انہوں نے کہا کہ راتوں رات دھرنے والوں سے معاہدہ کیا اور ایوان کو بھی نہیں بتایا گیا، ایسے کیا سے حالات تھے کہ فوج کومداخلت کرنا پڑی؟ وزیراعظم اور وزیرداخلہ کہاں ہیں؟

اس موقع پر وزیرمملکت طلال چوہدری نے بتایا کہ وزیر داخلہ اس وقت جہاز میں ہیں اور وزیر اعظم سعودی عرب کے دورے پر ہیں، جس پر چیئرمین سینیٹ کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم بیرون ملک چلے گئے اور وزیر داخلہ شہر سے باہر۔

اتنا کچھ یہاں ہو گیا کہ وزیرقانون کو مستعفی ہونا پڑا، فوج بلا لی گئی اور اس ایوان کو کچھ بتایا نہیں جا رہا، ایوان کو بتایا جائے کہ کیوں آرٹیکل 245 کے تحت فوج کو بلایا گیا؟

وزیراعظم اسی روز ملک سے باہر چلے گئے، ملکی حالات اہمیت کے حامل تھے یا سعودی عرب جانا ضروری تھا؟ ایسا کریں کہ حکومت کو ٹھیکے پر دے دیں۔

اگر ایوان کو اعتماد میں نہیں لینا تو ہم یہاں کس لئے بیٹھے ہیں؟ انہوں نے معاملے کی وضاحت کیلئے وزیر داخلہ احسن اقبال کو طلب کرلیا۔

اس موقع پر پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اعظم سواتی نے بھی حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔

حکمران جماعت کے سینئر رہنماء راجا ظفر الحق کا کہنا تھا کہ ماضی میں پارلیمنٹ کے سامنے126دن دھرنا دیا گیا تھا، اس وقت بھی کوئی پارلیمنٹ کے اندر جا سکتا تھا نہ باہر آ سکتا تھا، اگر پارلیمنٹ آج مقدس ہے تو پہلے بھی تھی، جو بھی ہوا بدقسمتی ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں