The news is by your side.

Advertisement

امتحانی نتائج میں ردوبدل، چیئرمین انٹربورڈ نے کمیٹی قائم کردی

کراچی: چیئرمین انٹرمیڈیٹ بورڈ میں طلبہ کے نتائج تبدیل کرنے کے معاملے پر تین رکنی تحقیقاتی کمیٹی قائم کردی۔

ذرائع کے مطابق تحقیقاتی کمیٹی قائم کرنے کا حکم چیئرمین بورڈ نے خود دیا تاکہ وہ اپنے اور دیگر قریبی لوگوں کے ناموں کو تنازع سے نکال سکیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ چیئرمین بورڈ نے خود کو بچانے کے لیے ہی کمیٹی قائم کی کیونکہ تحقیقاتی ٹیم میں چیئرمین کے قریبی دوستوں کو شامل کیا گیا۔

یاد رہے کہ چیئرمین انٹرمیڈیٹ بورڈ پر الزام ہے کہ انہوں نے دوستی نبھانے یا بھاری رقم کی عوض 180 طلبا کے نتائج تبدیل کیے، اینٹی کرپشن یونٹ کی کارروائی اور شواہد ہاتھ آنے کے بعد بورڈ کی انتظامیہ نے نتائج میں تبدیلی کا اعتراف کیا تھا۔

مزید پڑھیں: کراچی انٹر بورڈ میں نتائج تبدیلی کیس میں تحقیقاتی ادارے کو شواہد مل گئے

یاد رہے کہ اینٹی کرپشن یونٹ نے ایک روز قبل چیئرمین انٹرمیڈیٹ بورڈ انعام احمد کے خلاف نتائج تبدیل کرنے کے کیس میں ایف آئی آر درج کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

رشوت کے عوض مبینہ طور پر امتحانی نتائج میں گھپلوں پر محکمہ اینٹی کرپشن نے کراچی کے انٹر بورڈ آفس پر چھاپہ مار کر امتحانی ریکارڈ قبضے میں لے لیا تھا، کرپشن میں چیئرمین بورڈ کے ملوث ہونے کا انکشاف سامنے آیا۔

اینٹی کرپشن یونٹ چیئرمین انٹر بورڈ انعام احمد کے خلاف ایف آئی آر درج کرے گی۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ اینٹی کرپشن یونٹ نے نتائج تبدیل ہونے والی ایسی 179 طالب علموں کی کاپیاں حاصل کریں جن کے نمبرز چیئرمین انٹربورڈ کی اجازت سے تبدیل ہوئے۔اینٹی کرپشن نے پروفیسر انعام اور سابق کنٹرولر سے اس معاملے پر تفتیش شروع کردی۔

یہ بھی پڑھیں: چیئرمین انٹرمیڈیٹ بورڈ نے قریبی دوست کے بیٹے کو نتائج تبدیل کر کے پاس کردیا

یہ بھی اطلاعات سامنے آئیں کہ انٹرمیڈیٹ بورڈ نے پیسوں کےعوض طلبہ کو اچھے گریڈ میں پاس کیا گیا، کیمسٹری میں 2 نمبر لینے والے امیدوار کو 58 نمبر دیے گئے اسی طرح  غیر قانونی طریقے سے  ہر پرچے میں 66 تک اضافی نمبرز دے کر مخصوص طالب علموں کو کامیاب قرار دیا گیا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں