جنرل راحیل شریف سے متعلق بینر لگانے والی پارٹی کا سربراہ گرفتار -
The news is by your side.

Advertisement

جنرل راحیل شریف سے متعلق بینر لگانے والی پارٹی کا سربراہ گرفتار

اسلام آباد : حساس اداروں کی گیسٹ ہاؤس میں کارروائی موو آن پارٹی کے چیئرمین میاں کامران کو گرفتار کر کے نامعلوم مقام پر منتقل کردیا۔

تفصیلات کے مطابق آرمی چیف سے متعلق کراچی سمیت ملک کے دیگر اہم شہروں میں بینرز آویزاں کرنے والی جماعت کے چئیرمین کو فوج کو بدنام کرنے اور جمہوری معاشرے میں انتشار پھیلانے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔

پولیس حکام کے مطابق ملزم پر درج مقدمات کی روشنی میں اُن کی رہائش گاہ پر چھاپہ مارا تھا جہاں اُن کی غیر موجودگی پر میاں کامران کے والد اور دو بھائیوں کو حراست میں لیا گیا ہے، پارٹی ذرائع کے مطابق میاں کامران نے بینرز کی پالیسی کا اعلان کرنے سے قبل پنجاب کی اہم سیاسی شخصیت سے ملاقات کی تھی۔

مزید پڑھیں : راولپنڈی : آرمی چیف کی تصاویر والے بینرز مختلف شہروں میں آویزاں

یاد رہے موو آن پارٹی کی جانب سے چند روز قبل ملک کے اہم شہروں میں آرمی چیف کے حق میں بینرز آویزاں کیے گیے تھے، جن پر ’’اب آ بھی جاؤ‘‘ کے الفاظ درج تھے، ان بینرز کے حوالے سے حکومت اور اپوزیشن جماعتوں میں خاصی تشویش پائی جاتی ہے جبکہ ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل عاصم باجوہ کی جانب سے جاری اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ ’’ان بینرز کا آرمی سے کوئی تعلق نہیں ہے‘‘۔

پڑھیں :  آئی ایس پی آر کا تردیدی بیان

 دوسری جانب سیاست دانوں نے بینرز لگانے والے افراد کے خلاف آرٹیکل 6 کے تحت مقدمہ چلانے کی سفارش کی ہے، جبکہ اپوزیشن لیڈر نے حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ ’’ آستینں چڑھانے والےحکومتی وزراء میں اتنی ہمت نہیں ہے کہ وہ ایک بینر بھی اتار سکے، انہوں نے مزید کہا کہ ’’بنیرز لگانے کا معاملہ پاناما لیکس سے زیادہ سنگین ہے اور اس پر حکومت کو سخت ایکشن لینا چاہیے‘‘۔

پیپلزپارٹی کےسینیٹر اعتزاز احسن نے بینرز کو حکومتی سازش قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’’اس سازش کے پیچھے وفاقی حکومت خود ملوث ہے‘‘۔

حکومتی وزراء نے موقف اختیار کیا ہے کہ ’’بینرز وفاقی حکومت اور جمہوریت کے خلاف سازش ہیں، ان بینرز کے پیچھے وہ لوگ ملوث ہیں جو حکومت کے خلاف تحریک چلانے میں مصروف ہیں تاکہ چور دروازے سے وزارتِ عظمیٰ کی سیٹ حاصل کریں‘‘۔

ترکی میں عوام کی جانب سے مارشلاء کو مسترد کیے جانے کے بعد ملک میں ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ ’’اگر ترکی جیسی صورتحال پاکستان میں پیدا ہوئی تو لوگ مٹھیاں تقسیم کریں گے‘‘۔

 

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں