جمعہ, جولائی 17, 2026
اشتہار

چکوال میں آسٹریلیا پلٹ فیملی پر قیامت کیسے ٹوٹی؟ سی سی ڈی پولیس نے ایس او پیز کی خلاف ورزی کیسے کی؟

اشتہار

حیرت انگیز

راولپنڈی (14 جون 2026): راولپنڈی کے نواحی ضلع چکوال میں سی سی ڈی کی فائرنگ آسٹریلیا پلٹ معصوم بچی جاں بحق، باپ اور بیٹا زخمی ہونے کے معاملے میں کرائم کنٹرول ڈپارٹمنٹ کی جانب سے ایس او پیز کی شدید خلاف ورزی سامنے آ گئی ہے۔

واقعے کی ابتدائی تحقیقات میں پتا چلا ہے کہ ایس او پیز کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے سی سی ڈی اہلکار شجاعت نے بغیر وارننگ کے فائرنگ کی، اس کے بعد قتل کا مقدمہ درج ہونے کے باوجود سی سی ڈی اہلکار کو جوڈیشل کروا دیا گیا، جب کہ قانون کے مطابق گرفتار اہلکار کا جسمانی ریمانڈ حاصل کرنا ضروری تھا۔

چکوال کی مقامی ماتحت عدالت نے پاکستانی نژاد آسٹریلوی بچی کے قتل کے مقدمے میں گرفتار کرائم کنڑول ڈپارٹمنٹ کے اہلکار شجاعت کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا ہے، اس مقدمے کے تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ملزم سے نہ صرف سرکاری گن برآمد کر لی ہے بلکہ اس کا بیان بھی قلم بند کر لیا ہے، انھوں نے کہا کہ جس روز فائرنگ کا یہ واقعہ پیش آیا، اُس روز اس کی تھانے میں حاضری کو بھی چیک کیا گیا ہے۔

تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ جس گاڑی پر سرکاری گن سے فائرنگ کی گئی اور جائے حادثہ سے گولیوں کے جو خول ملے ہیں انھیں ٹیسٹ کے لیے فرانزک لیبارٹری میں بھجوا دیا گیا ہے، تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ اس واقعے سے متعلق ملزم کا بیان بھی لے لیا گیا ہے، ساری ریکوری بھی ہو گئی ہے اس لیے تفتیشی ٹیم کو ملزم کے جسمانی ریمانڈ کی ضرورت نہیں، جس پر عدالت نے ملزم کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا ہے۔


ہانیہ احمد ہلاکت کیس میں اہم پیش رفت، نامزد سی سی ڈی اہلکار کے خلاف دفعہ 302 شامل


واقعے سے متعلق بنائی گئی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے فائرنگ کے اس واقعے میں زخمی ہونے والے عدیل احمد کا بیان ریکارڈ کر لیا ہے، عدیل احمد اور ان کا بیٹا بھی فائرنگ کے اس واقعے میں زخمی ہیں اور مقامی اسپتال میں زیر علاج ہیں۔

مشترکہ تحقیقاتی ٹیم اگلے 2 روز میں اس واقعے سے متعلق حتمی رپورٹ سی سی ڈی کے سربراہ سہیل ظفر چھٹہ کو پیش کرے گی، ذرائع کا کہنا ہے کہ واقعے کے بعد ملزم کو معطل کر دیا گیا ہے، سی سی ڈی کے اہلکار کے خلاف قتل کا مقدمہ بھی عدیل احمد کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے۔

عدیل احمد نے پولیس کو بیان دیتے ہوئے کہا کہ وہ ڈھڈیال سے اپنی فیملی کے ہمراہ چکوال میں رہائش پذیر اپنے سسرال کی طرف دعوت پر آیا، اور جب اس نے نوگزی دربار کے قریب اپنی گاڑی کھڑی کی تو اس دوران 2 مسلح افراد وہاں آ گئے۔ انھوں نے میری بیوی پر پستول تان لی جس پر بیوی نے ڈاکوؤں سے کہا کہ جو چیز چاہیے لے لو لیکن کسی کو نقصان نہیں پہنچنا چاہیے۔

ایف آئی آر میں اس بات کا ذکر کیا گیا ہے کہ عدیل کی اہلیہ نے اپنے سارے زیور اتار کر ڈاکوؤں کو دے دیے، اس دوران فائر کی ایک آواز آئی جس کے بعد ڈاکو ان کی گاڑی کی سائیڈ پر چھپ گئے، اور انھوں نے بھی جوابی فائرنگ شروع کر دی۔ عدیل نے بتایا کہ اس دوران انھوں نے گاڑی کو تیزی سے بھگانے کی کوشش کی کہ ان کی گاڑی پر مخلتف اطراف سے فائرنگ کی گئی، فائرنگ کی وجہ سے 2 گولیاں انھیں اور ان کے بیٹے عفان کو بھی لگیں، جب کہ فائرنگ کے نتیجے میں ان کی 9 سالہ بیٹی ہانیہ بھی شدید زخمی ہو گئیں۔

ایف آئی آر کے مطابق جب زخمیوں کو طبی امداد کے لیے مقامی اسپتال داخل کروایا گیا تو ہانیہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئی۔ پولیس نے لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے اسپتال منتقل کر دیا اور پوسٹمارٹم کے بعد لاش کو ورثا کے حوالے کر دیا گیا۔

اہم ترین

مزید خبریں