The news is by your side.

Advertisement

چمن بارڈرپرایف سی اورمشتعل افراد میں تصادم، اہلکاروں سمیت دس زخمی

چمن : پاک افغان چمن بارڈر پر اصلی سفری دستاویزات نہ دکھانے پر ایف سی اور مشتعل افراد میں تصادم کے نتیجے میں سات ایف سی اہلکار اور تین شہری زخمی ہوگئے۔ زخمیوں میں دو صحافی بھی شامل ہیں۔ صحافتی ذمہ دارایاں نبھاتے ہوئے اے آر وائی نیوز کے نمائندے اختر گلفام کان پر پتھر لگنے سے شدید زخمی ہوئے۔

تفصیلات کے مطابق آج صبح چمن بارڈر کے باب دوستی گیٹ پر جب ایف سی اہلکاروں نے پاکستانی اور افغانی شہریوں سے اپنی اصلی سفری دستاویزات دکھانے کا مطالبہ کیا تو چمن بارڈر پر موجود بہت سے افراد کے پاس اپنی مکمل اصلی سفری دستاویزات نہیں تھیں جس کی وجہ سے ان کو چمن بارڈر کراس کرنے کی اجازت نہیں ملی۔

اس موقع پروہاں لوگوں کی بڑی تعداد جمع ہوگئی اور انہوں نے ایف سی اہلکاروں پر پتھراؤ شروع کردیا، جواب میں ایف سی کی جانب سے بھی فائرنگ اورشیلنگ شروع کردی گئی اور کئی گنھٹے کی جھڑپ کے بعد ایف سی نے مشتعل افراد کو منتشر کردیا۔

ایف سی حکام کے مطابق مشتعل افراد کے پتھراؤ سے سات ایف سی اہلکار زخمی ہوگئے جن کو فوری طورپر اسپتال منتقل کردیا گیا، اس دوران دو صحافی بھی پتھر لگنے سے زخمی ہوئے جس میں سماء ٹی وی اور اے آر وائی نیوز کے رپورٹر شامل ہیں۔

اسپتال ذرائع کے مطابق ایف سی اہلکاروں کی فائرنگ سے تین شہری زخمی ہوئے ہیں جس میں ایک شہری کی حالت تشویشناک بتائی جارہی ہے۔ ایف سی نے پتھراؤ کرنے والے متعدد افراد کو گرفتار بھی کرلیا ہے۔

ایف سی حکام کے مطابق چمن بارڈر ہر قسم کی آمدورفت کے لئے کھلا ہے تاہم پیدل فراد بھی اپنی مکمل اصلی سفری دستاویزات دکھانے کے پابند ہوں گے۔

یاد رہے کہ ایک ہفتہ قبل چمن بارڈر پر آمدورفت کے حوالے سے پاکستانی اور افغان حکام کے درمیان ایک فیلگ مٹینگ میں دونوں طرف سے فیصلہ کیا گیا تھا کہ چمن بارڈر کے راستے پاک افغان سرحد کو کراس کرنے والے افراد اپنی مکمل اصلی سفری دستاویزات دکھانے کے پابند ہوں گے۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں