چمن (09 جولائی 2026): بلوچستان کے سرحدی شہر چمن میں پاکستانی ایل پی جی کی عدم دستیابی کے باعث ایرانی ایل پی جی گیس فی کلو 400 سے 450 روپے فروخت کی جا رہی ہے، جس سے غریب اور متوسط طبقے پر مہنگائی کا بوجھ مزید بڑھ گیا ہے۔
چمن سے اے آر وائی نیوز کے نمائندے اختر گلفام نے رپورٹ کیا ہے کہ پاکستانی ایل پی جی گیس شہر میں دستیاب نہیں ہے، جس کی وجہ سے شہری ایرانی گیس مہنگے داموں خریدنے پر مجبور ہیں۔
اوگرا کی جانب سے ایل پی جی گیس کی فی کلو میں واضح کمی کے باوجود ایرانی گیس 400 سو روپے سے ساڑھے چار سو روپے فی کلو فروخت کی جا رہی ہے، جس سے عوام پر اضافی مالی بوجھ پڑ رہا ہے۔
ایران کے ایک حملے کے جواب میں ہم اُسے 20 بار نشانہ بناتے ہیں، ٹرمپ
مہنگائی کے ستائے شہریوں کے لیے چار سو سے ساڑھے چار سو روپے کلو تک ایل پی جی خریدنا اور کاروبار کرنا مشکل ہو گیا ہے۔ دکان دار حسب سابق ایل پی جی کے زائد نرخوں کا ذمہ دار گیس سپلائرز کو ٹھہراتے ہیں۔
شہریوں نے ڈپٹی کمشنر چمن سے مطالبہ کیا ہے کہ گیس ایجنسیوں کو پاکستانی ایل پی جی کی باقاعدہ فراہمی کا پابند بنایا جائے تاکہ عوام کو مناسب نرخوں پر گیس دستیاب ہو سکے اور مہنگی ایرانی گیس خریدنے کی مجبوری ختم ہو۔


