site
stats
کھیل

چیمپئنز ٹرافی 2017: تیاریاں حتمی مراحل میں داخل

لندن: اوول، برمنگھم کے ایجبسٹن کرکٹ گراونڈ اور کارڈف کے صوفیا گارڈنز میں چیمپیئنز ٹرافی کے سلسلے میں تیاریاں حتمی مراحل میں داخل ہوگئی ہیں۔

آئی سی سی چیمپیئنز ٹرافی 2017 کے آغاز میں وقت قریب تر ہے، یکم سے 18 جون تک  انگلینڈ میں ہونے والے میگا ایونٹ میں دنیائے کرکٹ کی 8 بہترین ٹیموں کے درمیان مقابلہ ہوگا۔ بھارتی کرکٹ ٹیم اعزاز کا دفاع کرے گی جبکہ دیگر ٹیمیں موجودہ چیمپیئن سے ٹائٹل اپنے نام کرنے کے لیے بے تاب ہیں۔

ایونٹ کے گزشتہ ایڈیشن کے گزرے چار سال بیت چکے ہیں، اس دوران کئی نامور کرکٹرز ون ڈے فارمیٹ کو خیرباد کہہ چکےہیں اور اب ان کی جگہ کئی نئے اور نوجوان کھلاڑی ایکشن میں دکھائی دینے لگے۔

سری لنکا کے کمار سنگاکارا،مہیلا جے وردھنے، آسٹریلیا کے شین واٹسن اور پاکستان کے تجربہ کار بیٹسمین یونس خان، مصباح الحق اور آل راونڈر شاہد آفریدی کی میگا ایونٹ میں کمی کو پورا کرنا آسان نہیں ہوگا۔

باوؤلرز کے لیے خطرے کی علامت سمجھے جانے والے ویسٹ انڈیز کے کرس گیل کی کمی شدت سے محسوس کی جائے گی جن کا نام سب سے زیادہ رنز بنانے والوں میں سرفہرست ہے تاہم بدقسمتی سے آئی سی سی رینکنگ کی ٹاپ آٹھ ٹیموں میں ویسٹ انڈیز کا نام کہیں شامل نہیں۔

کامیاب باؤلرز کی فہرست میں نیوزی لینڈ کے کائل ملز کا نام ضرور شامل ہے لیکن اب وہ اپنی ٹیم کا حصہ نہیں ان کی غیر موجودگی میں سری لنکن فاسٹ بولر لیستھ مالنگا وکٹوں کی تعداد بڑھاتے ہوئے چیمپیئنز ٹرافی کے کامیاب ترین باؤلربن سکتے ہیں کیونکہ چیمپئن ٹرافی میں ملز نے اب تک سب سے زیادہ 28 وکٹیں لے رکھی ہیں اور مالنگا کو اعزاز حاصل کرنے میں صرف 7 وکٹیں درکار ہیں۔

اب کچھ بات کرلیتےہیں پاکستان کرکٹ ٹیم کی جو اب وکٹ کیپر بیٹسمین سرفراز احمد کی قیادت میں بلند حوصلے کے ساتھ میدان میں اترے گی۔

اگرچہ گرین شرٹس کے پاس زیادہ تر ایسے کھلاڑی ہیں جو چیمپیئنز ٹرافی کو بطور ڈیبیو ایونٹ کھیلیں گے تاہم شعیب ملک، محمد حفیظ، وہاب ریاض، عمر اکمل اور محمد عامر تجربہ کار کھلاڑی بھی ٹیم میں شامل ہیں۔

کرکٹ شائقین کو انتظار کرنے پڑے گا کہ ایونٹ میں کون سا باؤلر کامیاب رہے گا اور کس کا کڑا امتحان ہوگا کیونکہ اس بار چیمپئنز ٹرافی کے لیے باؤنسی اور تیز وکٹیں بنائی جارہی ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top