The news is by your side.

Advertisement

طیارہ حادثہ: حفاظتی تدابیر اپنانے پر جان بچنے کا کتنا امکان ہوسکتا ہے؟

گزشتہ روز پاکستان انٹرنیشل ایئر لائن (پی آئی اے) کے طیارے کے ہولناک حادثے نے ایک بار پھر اس سوال کو جنم دے دیا ہے کہ کیا کچھ حفاظتی تدابیر اپنا کر اپنی جان بچائی جاسکتی ہے؟

پاکستان سمیت دنیا بھر میں ہر سال کئی جہازوں کو حادثے پیش آتے ہیں۔ ان میں زیادہ تر حادثے معمولی نوعیت کے ہوتے ہیں اور ان میں مسافر اپنی جانیں بچانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں جبکہ کچھ حادثوں میں طیارے زمین پر گر کر مکمل تباہ ہوجاتے ہیں۔

بلندی سے زمین پر گرنے اور آگ لگنے کے سبب طیارہ حادثے میں بچنے کے امکانات بے حد کم ہوتے ہیں، البتہ ہوا بازی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ جہاز میں کوئی ہنگامی صورتحال پیش آنے کی صورت میں کچھ حفاظتی اقدامات اپنا کر اپنی زندگی بچانے کا امکان پیدا کیا جاسکتا ہے۔

آئیں آپ بھی جانیں کہ وہ حفاظتی اقدامات کیا ہیں۔


کیا طیارے میں کوئی محفوظ سیٹ ہے؟

لندن کی گرین وچ یونیورسٹی نے سنہ 2011 میں ایک ’پانچ قطاروں کے اصول‘ کا نظریہ پیش کیا۔

اس نظریے کے مطابق اگر آپ ایمرجنسی ایگزٹ کے نزدیک 5 قطاروں میں موجود کسی سیٹ پر بیٹھے ہیں تو کسی حادثے کی صورت میں آپ کے بچنے کا امکان زیادہ ہو سکتا ہے۔

تاہم امریکی ایوی ایشن کے ماہرین نے اس کو یکسر مسترد کردیا۔

امریکا کے وفاقی ہوا بازی کے ادارے سے تعلق رکھنے والے ان ماہرین کا کہنا ہے کہ جہاز میں کوئی بھی سیٹ محفوظ نہیں کہی جاسکتی۔ ’کسی حادثے کی صورت میں تمام مسافروں اور عملے کو یکساں خطرات لاحق ہوتے ہیں‘۔

ان کا کہنا ہے کہ بچنے کا انحصار اس بات پر ہے کہ جہاز کو کس قسم کا حادثہ پیش آیا ہے۔ مثال کے طور پر اگر ایمرجنسی ایگزٹ کے قریب آگ بھڑک اٹھی ہے تو ظاہر ہے اس سے سب سے زیادہ خطرے میں وہی افراد ہوں گے جو اس ایگزٹ کے نزدیک بیٹھے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ حادثے کی صورت میں جہاز کا ہر حصہ مختلف انداز سے متاثر ہوتا ہے لہٰذا یہ کہنا بالکل ناممکن ہے کہ جہاز کی کوئی سیٹ بالکل محفوظ ہے۔


حفاظتی اقدامات غور سے سنیں

جہاز کے اڑان بھرنے سے قبل کیبن کریو یا ویڈیو کے ذریعہ بتائی جانے والی حفاظتی اقدامات اور تراکیب یقیناً بوریت کا باعث بنتی ہیں، لیکن اگر آپ نے انہیں غور سے سنا ہو اور یاد رکھا ہو تو کسی ہنگامی صورتحال میں یہی آپ کے لیے کارآمد ثابت ہوتی ہیں۔

اڑان سے قبل جہاز کے عملے کی جانب سے بھی آپ کو یہی یاد دہانی کروائی جاتی ہے کہ بے شک آپ فریکوئنٹ فلائر (باقاعدگی سے فضائی سفر کرنے والے) ہیں تب بھی حفاظتی اقدامات غور سے سنیں۔


سیفٹی کارڈ کو پڑھیں

Airline Safety Cards

فضائی سفر کے دوران آپ کی آگے کی سیٹ کی پشت میں جیب میں ایک کارڈ رکھا ہے۔ اسے کھول کر پڑھیں۔ یہ آپ کو بتاتا ہے کہ ہنگامی صورتحال میں کیا کرنا ہے، اور جہاز میں موجود آلات و سہولیات کیسے آپ کی جان بچا سکتے ہیں۔


سیٹ بیلٹ کا استعمال

جہاز کے عملے کی جانب سے ٹیک آف اور لینڈنگ سے قبل سیٹ بیلٹ پہننے کی ہدایت کی جاتی ہے، اس ہدایت پر لازمی عمل کریں۔ سیٹ بیلٹ آپ کو چھوٹے موٹے جھٹکے یا حادثے کے دوران محفوظ رکھ سکتی ہے۔

ان دو مواقعوں کے علاوہ بھی دوران سفر جہاز کے ناہموار ہونے پر سیٹ کے اوپر لگا کاشن بجنے لگتا ہے جس میں بیلٹ پہننے کا اشارہ ہوتا ہے۔ اس اشارے کو بھی نظر انداز کرنے سے گریز کریں اور سارے کام چھوڑ کر پہلے سیٹ بیلٹ باندھیں۔

دوران سفر سونے سے قبل بھی سیٹ بیلٹ باندھیں تاکہ بے خبری میں کسی حادثے کا شکار بننے سے محفوظ رہ سکیں۔


مضبوطی سے بیٹھیں

بعض اوقات جہاز کو لگنے والا معمولی سا جھٹکا بھی آپ کے لیے خطرناک ثابت ہوسکتا ہے اگر آپ آرام دہ حالت میں بیٹھے ہوں۔

آپ آگے کی سیٹ سے ٹکرا کر زخمی ہوسکتے ہیں یا آپ کے سامنے رکھا سامان آپ کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔

آپ کو علم ہونا چاہیئے کہ ہنگامی صورتحال میں آپ کے پاس صرف چند سیکنڈز ہوتے ہیں جن میں آپ کو خود کو ہر ممکن حد تک محفوظ پوزیشن پر لانا ہوتا ہے۔ اس کی معلومات آپ کو دیے گئے حفاظتی کارڈ میں درج ہوتی ہے۔ بہتر ہے کہ اسے پہلے سے پڑھ اور سمجھ لیں۔


ایمرجنسی ایگزٹ دیکھیں

جہاز میں داخل ہو کر سب سے پہلے ایمرجنسی راستوں کو دیکھیں اور انہیں ذہن نشین کرلیں۔

ہنگامی صورتحال میں ہاتھ پاؤں پھول جاتے ہیں اور دماغ کام کرنا چھوڑ دیتا ہے جس کی وجہ سے بعض اوقات آپ ایمرجنسی گیٹ کے قریب ہونے کے باوجود اسے نہیں دیکھ سکتے۔

اگر آپ ایمرجنسی ایگزٹ والی سیٹ پر بیٹھے ہیں تو آپ کو ہدایت کی جائے گی کہ ٹیک آف اور لینڈنگ کے دوران دروازے کے سامنے اپنا کوئی سامان (عموماً بیگ) نہ رکھیں۔

بعض اوقات عملے کی جانب سے دریافت کیا جاتا ہے کہ اگر ایمرجنسی دروازہ کھولنے کی ضرورت پیش آئی تو کیا آپ اپنے حواس قابو میں رکھتے ہوئے دروازہ کھول سکیں گے؟ اس سوال کا ایمانداری سے جواب دیں اور اگر آپ تذبذب کا شکار ہیں تو سیٹ تبدیل کرنے میں کوئی حرج نہیں۔


انتظار مت کریں

کیا آپ جانتے ہیں جہاز کے کسی حادثے کا شکار ہونے کی صورت میں آپ کے پاس جہاز سے نکلنے کے لیے صرف 90 سیکنڈز ہوتے ہیں؟ اگر آپ کی زندگی لکھی ہوگی تو آپ انہی 90 سیکنڈز میں اپنی جان بچا سکتے ہیں وگرنہ نہیں۔

ایسے موقع پر اگلے اٹھائے جانے والے قدم یا دیگر افراد کا انتظار کرنا جان لیوا ثابت ہوسکتا ہے۔


لینڈنگ اور ٹیک آف کے دوران الرٹ رہیں

ایک تحقیق کے مطابق جہاز کے اکثر حادثات لینڈنگ (زمین پر اترنے) اور ٹیک آف (زمین سے آسمان کی طرف بلند ہونے) کے دوران پیش آتے ہیں۔ ان دونوں مواقعوں پر سخت الرٹ رہیں۔ ذہن بھٹکانے والی چیزوں جیسے موبائل، کتاب وغیرہ کو بیگ میں رکھ دیں۔

اگر آپ نے سارا سفر سوتے ہوئے گزارا ہے تب بھی ضروری ہے کہ لینڈنگ سے پہلے جاگ جائیں اور دماغ کو حاضر رکھیں۔

اسی طرح جہاز کے سفر سے پہلے الکوحل کے استعمال سے بھی گریز کیا جائے۔ یہ آپ کی صورتحال کو سمجھنے اور فوری فیصلہ کرنے کی صلاحیت کو متاثر کرے گی۔


موزوں لباس پہنیں

جہاز میں سفر کے لیے آرام دہ اور آسان کپڑے منتخب کریں۔ ہائی ہیلز سے بالکل اجتناب کریں۔ گھیر دار اور اٹکنے والے کپڑے بھی نہ پہنے جائیں۔

ایسے آرام دہ کپڑے پہنیں جو ہنگامی حالات میں بھاگنے کے دوران آپ کے لیے رکاوٹ نہ پیدا کریں۔


جسمانی حالت

ہوا بازی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے افراد جو فربہ ہیں، یا سستی سے حرکت کرتے ہیں وہ ہنگامی صورتحال میں نہ صرف اپنے لیے بلکہ دوسروں کے لیے بھی مشکل کا باعث بن سکتے ہیں۔


خراب ریکارڈ والی ایئر لائنز سے گریز

بعض ایئر لائنز کا سیفٹی ریکارڈ بہت اچھا ہوتا ہے۔ گو کہ ناگہانی حادثہ تو کبھی بھی کسی کو بھی پیش آسکتا ہے، تاہم کچھ ایئر لائنز اپنی جانب سے مسافروں کو محفوظ سفر فراہم کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتیں۔

فضائی سفر کے لیے ہمیشہ ایسی ہی ایئر لائن کا انتخاب کیا جائے جن کا سیفٹی ریکارڈ اچھا ہو۔

اس کے برعکس ایسی ایئر لائنز جن کے طیاروں میں اکثر خرابی کی اطلاعات سامنے آتی ہوں، کوشش کی جائے کہ ان میں سفر سے گریز کریں۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں