The news is by your side.

Advertisement

‘ڈاکٹر نمرتا، ڈاکٹر نوشین کے قتل کو انتظامیہ نے خودکشی کا نام کیوں دیا؟’

کراچی: لاڑکانہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر اور انتظامیہ پر سوال اٹھاتے ہوئے، ینگ ڈاکٹرز کی تنظیم نے ہاسٹل کے اندر ڈاکٹر نمرتا اور ڈاکٹر نوشین کے قتل کے خلاف حکمت عملی ترتیب دے دی۔

تفصیلات کے مطابق ینگ ڈاکٹر ایسوسی ایشن (وائی ڈی اے) کی جانب سے ڈاکٹر نمرتا کماری اور ڈاکٹر نوشین کاظمی کے قتل کے خلاف کل سے کراچی سے لاڑکانہ تک سرکاری اسپتالوں میں احتجاج کا اعلان کر دیا گیا ہے۔

تنظیم نے مطالبہ کیا ہے کہ صاف و شفاف انکوائری کی جائے، جس کے لیے ضروری ہے کہ فوری طور پر موجودہ انتظامیہ، اور وائس چانسلر اور ہاسٹل پرووسٹ کو معطل کیا جائے، اور تمام مشتبہ افراد کا ڈی این اے ٹیسٹ کیا جائے، جب کہ موجودہ ڈی این اے رپورٹ کو پنجاب و بیرون ملک لیبارٹری سے بھی ری چیک کیا جائے۔

اتوار کو چانڈکا میڈیکل کالج لاڑکانہ کے ہاسٹل میں ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن سندھ و لاڑکانہ کی کابینہ نے مشترکہ اجلاس منعقد کیا، جس میں ینگ ڈاکٹروں نے کل سے احتجاج کا فیصلہ کیا، اجلاس میں چانڈکا میڈیکل کالج میں خواتین طلبہ کو ہراساں اور قتل کرنے جیسے واقعات اور تازہ آنے والی ڈی این اے رپورٹ اور اس کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال کو زیر بحث لایا گیا۔

تنظیم کا مؤقف ہے کہ جب سے یونیورسٹی میں موجودہ وائس چانسلر اور انتظامیہ آئی ہے، تب سے اب تک 2 لڑکیاں اور ایک لڑکا موت کے منہ میں دھکیلے جا چکے ہیں، اور انتظامیہ کی جانب سے اسے خود کشی کا نام دیا جاتا رہا۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ موجودہ انتظامیہ نے پرانے گرلز ہاسٹل کو تبدیل کر کے ایک ویران جگہ پر اسے منتقل کیا، جہاں حالیہ 2 واقعات رونما ہوئے ہیں، اور دو طالبات زندگی کی بازی ہار گئیں، یہ واقعات سیکیورٹی کی ناکامی کا ثبوت ہیں، یونیورسٹی میں طلبہ بہت ذیادہ ذہنی دباؤ کا شکار ہیں، ان کی تمام غیر نصابی سرگرمیاں ختم کر کے یونیورسٹی کو قید خانہ بنا دیا گیا ہے۔

ینگ ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر نمرتا و ڈاکٹر نوشین کی ڈی این اے رپورٹ نے بہت سارے سوالات کو جنم دیا ہے، تمام سندھ میں اس سے ایک خوف کی فضا پیدا ہوگئی ہے، ہمارے تعلیمی اداروں کو طلبہ غیر محفوظ تصور کر رہے ہیں، اس لیے ہمارا مطالبہ ہے کہ ان واقعات کی صاف و شفاف انکوائری کی جائے اور اسے فوری طور پبلک کیا جائے، اور ملزمان کو قرار واقعی سزا دی جائے۔

تنظیم نے کہا طلبہ کے ذہنی دباؤ کو کم کیا جائے، جس کے لیے ایکسٹرا کریکولر سرگرمیوں کا آغاز کیا جائے، اور طلبہ یونین کو فوری بحال کیا جائے، امتحان کا نظام بہتر کیا جائے جس سے کوئی طالب علم بلیک میل نہ ہو سکے۔

تنظیم نے اعلان کیا کہ کل سے سندھ بھر میں بھرپور پور احتجاج کیا جائے گا، اگر مطالبات پر کوئی پیش رفت نہ ہوئی، تو احتجاج کا دائرہ کار بڑھا دیا جائے گا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں