The news is by your side.

Advertisement

چھانگا مانگا کون تھے جن سے موسوم مصنوعی جنگل مشہور ہے؟

چھانگا مانگا کا نام تو آپ سبھی نے سن رکھا ہے اور یہ بھی جانتے ہیں کہ یہاں ایک مصنوعی جنگل ہے جو برطانوی دور میں بنایا گیا تھا جس کا مقصد اس زمانے میں اسٹیم انجنوں کو ایندھن کے لیے لکڑی فراہم کرنا تھا، لیکن شاید آپ یہ نہ جانتے ہوں کہ اس علاقے کا نام چھانگا مانگا کیوں پڑا؟

ڈاکٹر ہارون الرشید تبسّم کی کتاب “انوارِ پاکستان” میں اس بارے میں‌ لکھا ہے:

“ضلع قصور کی تحصیل چھانگا مانگا اپنی خوب صورتی کی وجہ سے بہت مقبول ہے۔ چھانگا مانگا، لاہور سے تقریباً 80 کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

یہ انسانی ہاتھ سے تیار کردہ دنیا کا سب سے بڑا جنگل ہے، جسے ایک منصوبے کے تحت انگریزوں نے 1866ء میں تعمیر کیا۔”

“آپ یہ بات سن کر حیران ہوں گے کہ یہ نام دو ڈاکوؤں کے نام پر رکھا گیا۔ ’’چھانگا‘‘، ’’مانگا‘‘ دو سگے بھائی (ڈاکو) تھے، جو شہریوں کو لوٹتے تھے اور اس جنگل میں چھپ جاتے تھے۔

ڈاکوؤں نے اس جنگل میں اپنے لیے ایک پناہ گاہ بنا رکھی تھی۔ پولیس کی مسلسل کوششوں سے یہ ڈاکو اِسی جنگل میں پکڑ لیے گئے۔ اور اس جنگل کو ’’چھانگا مانگا‘‘ کا نام دے دیا گیا۔

ایک خوب صورت نہر اور اُس پر تعمیر شدہ پُل چھانگا مانا کی خوب صورتی میں اضافہ ہے۔ سیّاحوں اور خصوصاً بچوں کے لیے ایک ٹرین چھانگا مانگا جنگل میں گھومتے ہوئے بھلی محسوس ہوتی ہے۔ جھیل کے خوب صورت نظارے دیکھنے والوں کا دل موہ لیتے ہیں۔

ایک مختصر سا چڑیا گھر بھی چھانگا مانگا کی زینت ہے۔ طرح طرح کے مشروبات اور کھانے دست یاب ہیں۔ ایک چھوٹا سا ریسٹ ہاؤس بھی ہے جس میں سرکاری افسران قیام کرتے ہیں۔ عمارتی لکڑی بھی دست یاب ہے۔ چھانگا مانگا جنگل مختلف نوعیت کے درختوں سے مزین ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں