فروری1227ء میں ننگ سیا کے محاصرے کے دوران چنگیز کو پتہ چلا کہ اس کے بڑے بیٹے جو چی کا انتقال ہو گیا۔ ٹنگٹ اور طمغاج کی طرف سے اطلاع ملی کہ بچے کھچے ختائی، جنگ سیا اور ترک قبائل بغاوت پر آمادہ ہیں۔ اندیشہ تھا کہ یہ علاقے ہاتھ سے نکل جائیں گے۔ یہ خبر ملتے ہی چنگیز لوب کے راستے واپس مڑ گیا۔ اب ٹنگٹ اس کی منزل تھی۔
ٹنگٹ پہنچنے پر چنگیز نے فضا کو مخالف پایا۔ اس سے پہلے اس نے کئی بار حملہ کیا تھا لیکن وہ ملک فتح نہ ہو سکا تھا۔ وہاں کا حاکم تنگری خاں کہلاتا تھا۔ مال و زر کی بہتات، سامان حرب کی کثرت اور لشکر کی وجہ سے وہ دلیر اور جری شخص تھا۔ اب کی بار جب چنگیز اور اس کا آمنا سامنا ہوا تو چنگیز اسلامی ممالک کی کام یاب مہموں سے لوٹ کر آیا تھا۔ اس کا جنگی حوصلہ آسمان پر تھا۔ ان حالات میں تنگری خاں نے اپنے سرداروں سے مشورہ کیا۔ چنگیز خان طمغاج کی طرف جارہا تھا۔ اسکا مقصد التون خان پر چڑھائی کرنا تھا۔ تنگری خاں نے سرداروں سے کہا: بہتر ہے کہ ہم اس سے صلح کر لیں اور التون کے خلاف اس کا ساتھ دیں۔ اس رائے پر تمام سرداروں نے ہامی بھر لی۔ چنگیز سے مذاکرات ہوئے۔ دونوں حریفوں میں دوستی کا معاہدہ ہوا اور وہ حلیف بن گئے۔ یہ مشرق و مغرب کا ملاپ تھا جو کبھی نہیں ہو سکتا۔ تنگری خاں کا یہ اقدام اور سوچ جنگی اور بہادری کے تقاضوں کے برعکس تھا۔ تنگری خاں چنگیز کے دربار میں آگیا۔ دونوں لشکروں کی منزل چین اور ختا تھی۔ دریائے قراقرم عبور کرنے کے بعد دونوں لشکر ختا پر نظریں گاڑے تھے۔ منگول دانشوروں نے اس اندیشے کا اظہار کیا کہ اگر ختا میں انہیں مشکل پڑی تو ان کی فوج کے اندر ایک دشمن یعنی تنگری خاں کی طرف سے اس پر حملے کا خطرہ منڈلاتا رہے گا۔ اگر ایسا ہوا تو ہم میں سے کوئی زندہ اپنے وطن نہ پہنچ پائے گا۔ بہتر یہ ہوگا کہ تنگری خاں کا خاتمہ کر دیا جائے۔ اس خوف سے نجات حاصل کرنے پر ہی ختا پر چڑھائی کی جائے۔ چنگیز نے ان کے مشورے کو قبول کیا اور تنگری خاں کو گرفتار کرلیا گیا اور اس کے ساتھیوں کو قتل کا حکم دے دیا گیا۔ اس فیصلے سے یہ نظریہ درست ثابت ہوا کہ دنیا کی سپر پاور اپنا مفاد ملحوظِ نظر رکھتی ہے، کوئی عہد و پیمان نہیں۔
جب تنگری خاں قید خانے میں زندگی کے دن گن رہا تھا تو اس نے ارد گرد کے لوگوں سے کہا کہ میری یہ بات چنگیز خاں تک پہنچا دیں کہ اس نے میرے ساتھ کیے معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے، اس طرح وہ غداری کا مرتکب ہوا ہے۔ اسے کہہ دو کہ یاد رکھے اگر مجھے قتل کر دیا اور میرے مرنے پر جسم سے دودھ کی طرح سفید خون نکلے تو میری موت کے تین روز کے اندر اندر چنگیز خاں بھی مر جائے گا۔
چنانچہ یہ بات چنگیز کو بتا دی گئی۔ چنگیز نے سنا تو بے اختیار چلّا اٹھا کہ بلاشبہ یہ شخص پاگل ہے، کسی کے قتل کیے جانے پر سرخ رنگ کا خون نکلتا ہے سفید نہیں۔ کہا جاتا ہے کہ جب تنگری خاں پر تلوار کا وار کیا گیا تو زخم سے جو خون نکلا وہ سرخ نہیں بلکہ سفید رنگ کا تھا۔ بہرحال تنگری مر گیا لیکن چنگیز خاں کے لیے کئی سوال چھوڑ گیا۔
یہ خبر جب چنگیز تک پہنچائی گئی تو وہ خود موقع پر تنگری خاں کی لاش دیکھنے گیا۔ سفید خون دیکھ کر اس کا دل دہل گیا اور اس دن کے بعد اس کی جسمانی قوت اور بصیرت ماند پڑنے لگی۔ آخر تیسرے دن وہ دل کے درد سے کراہتا ہوا اس جہانِ فانی سے چل بسا۔
جب چنگیز پر موت کا سایہ منڈلا رہا تھا تو اس کی عمر 73 سال کے قریب تھی۔ کہتے ہیں کہ اس نے خواب بھی دیکھا تھا جس میں موت کا اشارہ تھا۔ اس نے چغتائی کے علاوہ اپنے تمام بیٹوں کو طلب کیا اور اردو کے کمانڈروں کو بلا کر ہدایات دیں۔ اس کی آواز میں کمزوری اور نقاہت کے سبب کمانڈر دو زانو بیٹھ کر بغور سن رہے تھے۔
وقت کا مشہور شاعر اور مغل فوج کا سپای کلیو جن اس وقت فاتحِ عالم کے آخری لمحات میں اس کے پاس موجود تھا۔ اس نے بیان کیا، چنگیز نے اسے بورتی ( چنگیز کی پہلی بیوی) کی خصوصی نگہداشت کی تاکید کی۔ اس نے منگ کی سلطنت کے خلاف جاری مہم کے سلسلے میں ہدایات دیں کہ جنگ کو کس طرح جاری رکھنا ہے۔ چنگیز نے مرتے وقت اوکتائی کو بادشاہت حوالے کی۔ جب کہ مشرق میں چغتائی اور مغرب میں تولی کو حاکم مقرر کیا۔
چنگیز کی وصیت کے مطابق تولی نے تنگری خاں کے ملک کے تمام مرد و زن، چھوٹے بڑے تلوار کی نوک پر پرو دیے۔ اور زندگی کی کسی کو بھیک نہ دی۔ اس طرح یہ فاتحِ عالم مرتے وقت بھی ہزاروں کے خون سے غسل کر کے راہیٔ ملکِ عدم ہوا۔ ورثے میں وہ اپنی اولاد کے لیے ایک بڑی سلطنت اور ایک خونخوار فوج چھوڑ گیا۔
چنگیز کی وصیت کے مطابق اس کی موت کو راز میں رکھا گیا۔ تاکہ دشمنوں کو موقع نہ مل سکے اور فوج کے مورال پر اثر نہ پڑے۔ اس کی موت کی خبر چنگیز کے رہائشی خیمے تک محدود کر دی گئی۔ ایک نیزہ اس کے خیمے کے سامنے زمین میں گاڑ دیا گیا۔ ملاقاتی اور قاصد جو ملنا چاہتے تھے ان کو محافظ اس طرف آنے نہیں دیتے تھے۔ سردارانِ لشکر اسی معمول سے خیمے میں آتے جاتے نظر آتے جیسے وہ بیمار پڑے چنگیز سے ہدایت لینے کے لیے آتے جاتے تھے۔ اسی اثناء میں ہسیا والوں کا محاصرہ جاری تھا اور اہلِ شہر کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ چنگیز خاں اب اس دنیا میں نہیں رہا۔ ہسیا کا بادشاہ اپنے سرداروں کے ہمراہ چنگیز سے ملنے اردو پہنچ گیا۔ چنگیز کی وصیت کے مطابق اس وفد کی خوب پذیرائی کی گئی، اعزاز سے نوازے گئے۔ اس کے بعد ان سب کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ منگول فوج شہریوں پرٹوٹ پڑی اور ہر ذی روح کو موت کی وادی میں دھکیل دیا گیا۔
اب چنگیز کی لاش کو وطن گوبی واپس لانا تھا۔ وصیت کے مطابق اس کی لاش کو اس کی بیوی بورتی اور اس کی قوم کو دکھانا تھا۔ چنگیز کی وفات سنگ میں ہوئی۔ اس کے اور وطن کے درمیان بنجر میدان اور ریگستان تھے۔ ایک روایت کی رو سے منگولیا کی حدود میں جو شخص چنگیز کے جنازے کے سامنے آیا اسے قتل کر دیا گیا۔ عقیدہ یہ تھا کہ یہ مقتول اگلے جہاں میں خاقان (چنگیز) کی خدمت کرے گا۔ راستے بھر مغل سپاہ ماتمی گیت گاتے جاتے تھے۔
اب چنگیز کی موت کی خبر تمام سرداروں کو پہنچ چکی تھی۔ چنگیز کی لاش دیدارِ عام کے لیے تین ماہ تک اس کی جنم بھومی میں پڑی رہی۔ چنگیز نے اپنی قبر کے لیے جس جنگل اور پہاڑی کا انتخاب کیا تھا اس کا نام خان کلدون ( خدا کی پہاڑی ) تھا۔ ایک مغل دستہ جسے فوجی خدمت معاف کر دی گئی تھی، وہ چنگیز کی قبر کی حفاظت کے لیے مقرر تھا، مبادا آنے والے وقتوں میں کوئی چنگیز کی لاش اس کی قبر کھود کر نکال نہ لے جائے۔
مغربی مؤرخین کے مطابق چنگیز کی تدفین کے موقع پر سیکڑوں جانوروں کی قربانی اور ان کو سر سے پیر تک دفن کیا گیا۔ علاقے میں خوشبو بکھیری جاتی رہی۔ علاقے کی زرخیزی کے سبب پہاڑی جلدی گھنے جنگل میں چھپ گئی۔ خود حفاظتی دستہ بھی چنگیز کی شناخت نہیں کر سکتا تھا اور نشان بتانے والا بھی کوئی نہ بچا۔ آج اس قبر کا کوئی نشان باقی نہیں رہا۔
(مولانا محمد ادریس ندوی کی مؤلفہ کتاب چنگیز خاں: تاریخی شخصیات سیریز سے اقتباس)


