The news is by your side.

Advertisement

چوہدری نثار بعض پارٹی رہنماؤں کے رویے سے ناخوش، آئندہ انتخابات میں این اے 53 سے الیکشن لڑنے کا اعلان

ٹیکسلا : سابق وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار نے آئندہ انتخابات میں این اے ترپن سے الیکشن لڑنے کا اعلان کردیا جبکہ وہ بعض پارٹی رہنماؤں کے رویے سے ناخوش ہے اورمریم نواز کے عدالتوں سے متعلق ریمارکس پر بھی مایوس ہے۔

تفصیلات کے مطابق سابق وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار نے ٹیکسلا میں ورکرزکنویشن سے خطاب میں آئندہ انتخابات میں این اے ترپن سے الیکشن لڑنے کا اعلان کیا ہے۔

دوسری جانب چوہدری نثار بعض پارٹی رہنماؤں کے رویے سے ناخوش ہے جبکہ مریم نواز کے عدالتوں سے متعلق ریمارکس پرمایوسی کا اظہار کیا ، ان کا کہنا ہے ایسے بیانات دینے کے بجائے افہام وتفہیم سے کام لیا جائے، ایسےبیانات پارٹی کیلئےمشکلات پیداکررہےہیں، ایسے رویوں سے اداروں کے ساتھ خلیج بڑھ رہی ہے۔

چوہدری نثارنے کہا کہ ایسے بیانات انتخابات سے پہلے مشکلات پیدا کرسکتےہیں، نوازشریف میرے قائد ہیں، قائد کی بیٹی قائد نہیں ہوسکتی۔

یاد رہے چند روز قبل سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے رہنماؤں کے اصرار کے باوجود ورکرز کنونشن سے خطاب نہ کیا، وہ وزیراعظم کی تقریر کے دوران خاموشی سے اٹھ کر چلے گئے تھے۔

اس سے قبل چوہدری نثارسمیت بعض رہنماؤں نے مریم نواز کو اہم ذمہ داری دینے کے مخالفت کی تھی۔

سابق وزیر داخلہ نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ مریم نواز کو لیڈر تسلیم نہیں کرتا، بچے بچے ہوتے ہیں انہیں لیڈر کیسے مانا جاسکتا ہے، اختلافات کے باوجود نواز شریف کے ساتھ چلا جاسکتا ہے۔


مزید پڑھیں : مریم نوازکو لیڈر تسلیم نہیں کرتا، بچے بچے ہوتے ہیں، چوہدری نثار


چوہدری نثار کا کہنا تھا کہ مریم نواز کا کردارصرف نوازشریف کی بیٹی کا ہے، جب مریم باضابطہ سیاست میں آئیں گی، ان کا پروفائل بنے گا تو لوگ فیصلہ کرینگے، مریم نواز اور بے نظیر بھٹو میں بہت فرق ہے۔

انکا کہنا تھا کہ بےنظیر بھٹو کا معاملہ مریم نواز سے قطعاً مختلف ہے، بےنظیر بھٹو نے ذوالفقار علی بھٹو کے قتل کے بعد گیارہ سال تک مصبیتیں جھیلیں۔

جس کے بعد مریم نواز نے چوہدری نثار کے بیان پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ چوہدری نثار کے اپنے خیالات ہیں وہ میرے والد کے پرانے ساتھی ہیں اُن کی عزت کرتی ہوں۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں