site
stats
پاکستان

چوہدری نثار کا برطانیہ سے ایم کیو ایم قائد کیخلاف کارروائی کا مطالبہ

اسلام آباد : ایم کیوایم کے قائد کے معاملے پر برطانوی ہائی کمشنر  تھامس ڈریو نے چوہدری نثار سے ملاقات کی، ملاقات میں چوہدری نثار نے الطاف حسین کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کردیا۔

تفصیلات کے مطابق برطانیہ کو ایم کیو ایم قائد کے خلاف ریفرنس بھیجنے کے دوسرے ہی دن برطانوی ہائی کمشنر چوہدری نثار سے ملاقات کیلئے پہنچ گئے۔

اسلام آباد میں وزیر داخلہ چوہدری نثار سے برطانوی ہائی کمشنر کی ملاقات میں قائد ایم کیوایم کے خلاف بھیجے گئے ریفرنس پر بات چیت ہوئی، ذرائع کے مطابق چوہدری نثار نے ہائی کمشنر سے مطالبہ کیا کہ الطاف حسین کے خلاف برطانوی قوانین کے تحت کارروائی کی جائے۔


 مزید پڑھیں : بانی ایم کیو ایم پر کارروائی کا فیصلہ تقریر کے ترجمے کے بعد ہوگا، اسکاٹ لینڈ یارڈ


ہائی کمشنر نے بتایا کہ برطانیہ میں تشدد پر اکسانے کے قوانین بہت سخت ہے، اس سے پہلے ریفرنس اور اس کے ساتھ بھیجی گئی تقریر کے متن پر اسکاٹ لینڈ یارڈ نے غور شروع کردیا تھا، اسکاٹ لینڈ یارڈ کے مطابق حکومت پاکستان سے رابطے میں ہیں قائد ایم کیو ایم کے خلاف کارروائی کا فیصلہ تقریر کے ترجمے کے بعد ہوگا۔

اس سے قبل وزارت داخلہ نے بانی ایم کیو ایم الطاف حسین کے خلاف برطانوی حکومت کو ریفرنس بھیجا تھام جس میں قائد ایم کیو ایم کے خلاف شواہد بھی منسلک تھے۔


 مزید پڑھیں :  قائد متحدہ کے خلاف کارروائی، وزارت داخلہ نے برطانیہ کو ریفرنس ارسال کردیا


ترجمان وزارت داخلہ کے مطابق حکومت برطانیہ کو بھیجے گئے ریفرنس میں بانی ایم کیو ایم کے خلاف شواہد بھی مہیا کیے گئے جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ برطانوی حکومت اپنے قوانین کے تحت بانی متحدہ قومی موومنٹ کے خلاف کارروائی کرے

ترجمان وزارت داخلہ کے مطابق حکومت برطانیہ کو بھیجے گئے ریفرنس میں بانی ایم کیو ایم کے خلاف شواہد بھی مہیا کیے گئے جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ برطانوی حکومت اپنے قوانین کے تحت بانی متحدہ قومی موومنٹ کے خلاف کارروائی کرے۔


 مزید پڑھیں : کراچی: ایم کیو ایم کارکنان کا اے آر وائی نیوز کے دفتر پر حملہ


یاد رہے کہ الطاف حسین نے رواں ماہ 22 اگست کو کراچی میں کارکنوں سے خطاب کے دوران پاکستان مخالف نعرے لگوائے تھے، جبکہ کارکنوں کو میڈیا ہاؤسز پرحملوں کے لیے اکسایا تھا، جس کے بعد کارکنوں نے مشتعل ہوکر اے آر وائی نیوز کے دفتر پر حملہ کردیا تھا۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top