ہاتھ ملا کر چھرا گھونپنے میں نواز شریف کا کوئی ثانی نہیں، چودھری منظور احمد
The news is by your side.

Advertisement

ہاتھ ملا کر چھرا گھونپنے میں نواز شریف کا کوئی ثانی نہیں، چودھری منظور احمد

کراچی : پیپلز پارٹی ترجمان چودھری منظور احمد نے کہاہے کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف تصادم کر کے معافی مانگنے کی لمبی تاریخ رکھتے ہیں، ہاتھ ملا کر چھرا گھونپنے میں بھی ان کا کوئی ثانی نہیں۔

تفصیلات کے مطابق میڈیا سیل کی طرف سے جاری بیان میں پیپلز پارٹی کے ترجمان چودھری منظور احمد نے نواز شریف کے بیان پر درعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پی پی پی نے ہمیشہ جمہوریت کیلئے نواز شریف کا ہاتھ پکڑا اور اس نے سودے بازی کی۔ ہم کسی کو خوش کرنے کی نہیں نواز شریف کے دھوکے سے بچنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔

چودھری منظور احمد کا کہنا تھا کہ وہ سابق صدر آصف زرداری پر بات کرنے سے پہلے اپنے کردار کا جائزہ لیں، بینظیر بھٹو اور آصف زرداری نے ماضی کے جرائم معاف کر کے سابق وزیر اعظم سے ہاتھ ملایا تھا، مگر وہ مشرف سے معافی مانگ کر معاہدہ کرکے سعودی عرب چلے گئے۔

ترجمان پی پی پی نے کہا کہ نواز شریف نے ایک اور بڑا دھوکہ میمو گیٹ میں آصف زرداری کے خلاف کالا کوٹ پہن کر دیا۔جب وہ وکیل بن کر پی پی اور آصف زرداری کو غدار قرار دلوانے کا ضیاءالحق کا خواب پورا کرنے چلے تھے۔ تیسرا بڑا دھوکہ مشرف کے مقدمے کی صورت میں دیا گیا، جب پیپلز پارٹی کو آگے کر کے نواز شریف نے پرو یز مشرف کو باہر بھیج دیا۔

انکا مزید کہنا تھا کہ جسٹس افتخار چودھری سے گٹھ جوڑ کرکے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو گھر بھجوانے والا نواز شریف خود اب سڑکوں پر پاگلوں کی طرح پوچھتا پھر رہا ہے کہ مجھے کیوں نکالا۔ تصادم کر کے معافی مانگنے اور ہاتھ ملا کر چھرا گھونپنے میں نواز شریف کا کوئی ثانی نہیں۔


مزید پڑھیں : آصف زرداری کسی اورکو خوش کرنے کے لیے مجھےگالیاں دے رہےہیں ، نواز شریف


یاد رہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف نے احتساب عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو میں کہا تھا کہ آصف زرداری کسی اورکو خوش کرنے کے لیے مجھےگالیاں دے رہےہیں ، جو اس ملک میں ہورہا ہے وہ دنیا کے کسی ملک میں نہیں ہوتا۔

انکا کہنا تھا کہ مجھے یہ تو بتائیں کیسز کون سے ہیں، کیا کوئی ٹھیکے لیے ہیں یا کوئی رشوت کا کیس ہے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں