site
stats
پاکستان

مشرف دور میں ایسے لوگ پاکستان آئے جو زہرقاتل تھے، چو ہدری نثار

اسلام آباد : سابق وزیر داخلہ چو ہدری نثار کی اپنی ہی حکومت کی ویزا پالیسی پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ویزہ آن ارائیول دو طرفہ ہونا چاہئے اگر ہمارے پارلیمنٹیرینز کو ایمبیسی جانا پڑتا ہے تو دیگرممالک کے پارلیمینٹیرینز کو بھی ایمبیسی جانا چاہے، مشرف دور میں ایسے لوگ پاکستان آئے جو زہرقاتل تھے۔

تفصیلات کے مطابق سابق وزیر داخلہ چو ہدری نثار نے قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ویزہ آن ارائیول دوطرفہ ہوناچاہئے، کوئی ہمیں ویزہ آن ارائیول دیتا ہے تو ہم بھی اسے ویزہ آن ارائیول دیں، اگرہمارے پارلیمنٹیرینزکوایمبیسی جانا پڑتا ہے تو دیگرممالک کے پارلیمینٹیرینز کو بھی ایمبیسی جانا چاہئے۔

چوہدری نثار کا کہنا تھا کہ ہم 500ڈالر میں ویزہ دے دیتے تھے لیکن ہمیں 2لاکھ میں ملتا تھا میں نے یکساں نظام رائج کیا، ہمیں دائیں بائیں کے پریشر پر پالیسی میں تبدیلی نہیں لانی چاہئے۔

سابق وزیر داخلہ نے کہا کہ غیر ملکیوں کی امد پر ویزہ پابندی میں نےلگائی، اگر ہمیں کوئی ایسا ویزہ دیتا ہے تو ہمیں بھی ایسے دینا چاہئے، مشرف دور میں ایسے لوگ پاکستان آئے جو زہرقاتل تھے، ہمیں نے اس کو روکا اور اب اس کو مزید مضبوط کرنے پر مل کرسوچنا ہوگا۔

انکا مزید کہنا تھا کہ میں جب وزیرداخلہ بناتوامریکاسےجان کیری آئے، میں نے یہ پریکٹس دیکھی کہ میٹنگ کی صدارت ہماری طرف سے وزیر کرتا تھا، امریکا کی طرف سے اسسٹنٹ سیکریٹری ہوتا تھا، مجھ سے کہا گیا تھوڑی دیر میٹنگ میں آجائیں، فنڈزدینے کے لئے تیار ہیں۔

چوہدری نثار نے کہا کہ وزارت داخلہ میں 240ملین ڈالروں کا کوئی ریکارڈ نہیں ملا، میں نے کہا میٹنگ میں نہیں آؤں گا نہ ہی کوئی ملین ڈالر چاہئیں، 240 ملین ڈالرکا آڈٹ کروارہاہوں، امریکی حکام سےکہاہمارے ساتھ 240ملین ڈالرکاآڈ ٹ کروائیں، امریکی حکام کی جانب سےکوئی جواب نہیں آیا ہم وزارت داخلہ میں نئی پالیسی لائے، اسی پالیسی کو جاری رکھا گیا ہے۔

سابق وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ بہت سی آئی این جی اوز کواسلام آبادکیلئےاجازت دی گئی، وہ آئی این جی اوزبلوچستان میں کام کررہی ہیں، امریکی امداد آئی این جی اوز کے ذریعےآتی رہی ہے، جہاں حساس تنصیبات ہیں وہاں آئی این جی اوزکیا کر رہی ہیں۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

loading...

Most Popular

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top