site
stats
پاکستان

دہشتگردی کے واقعات، وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثار کا عسکری حکام سے ٹیلی فونک رابطہ

اسلام آباد : کوئٹہ ، پارا چنار اور کراچی میں دہشتگردی کے واقعات کے بعد وزیر داخلہ چوہدری نثارنے عسکری حکام سے ٹیلی فونک رابطہ کیا اور کوئٹہ،پاراچناراورکراچی میں دہشتگردی سےمتعلق شواہدکی تفصیلات حاصل کیں۔

تفصیلات کے مطابق ملک میں جاری دہشت گرد حملوں کے بعد وزیر داخلہ چوہدری نثار نے پاک فوج کے چیف آف جنرل اسٹاف لیفٹینٹ جنرل بلال اکبر ، ڈی جی رینجرز سندھ میجر جنرل محمد سعید اور آئی جی ایف سی بلوچستان میجر جنرل ندیم احمد انجم سے ٹیلیفونک رابطہ کیا۔

وزیرداخلہ نے دہشت گردی کے واقعات سے متعلق اب تک سامنے آنے والے شواہد کی تفصیلات حاصل کیں اور قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔

چوہدری نثار کا کہنا تھا کہ پاراچنار میں دہشت گردی سے متعلق دو الرٹ صوبائی حکومت کو بھجوائے گئے، اطلاعات کے باوجود بھی موثر حفاظتی اقدامات کیوں نہ کئے گئے۔؟


مزید پڑھیں : پاراچنار کی فضا سوگوار ، دھماکوں میں شہید افراد کی تعداد45ہوگئی


وزیرداخلہ نے کہا کہ دہشت گردی کا مقصد سیکیورٹی سے متعلق بے یقینی کی کیفیت پیدا کرنا ہے، بزدلانہ کاروائیوں سے قوم کا عزم وحوصلہ متاثرنہیں ہو سکتا، مذموم کاروائیوں کاجواب پر عزم طریقے اور مکمل طاقت سے دیا جائے گا۔

چوہدری نثار نے کہا کہ افغان سرحد پر کراسنگ پوائنٹس کھولنے پر دہشت گردی میں اضافے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ موثرسرحدی نگرانی سےدہشت گردی کاراستہ روکنے کی ضرورت ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ افغانستان میں بلاتحقیق کسی بھی واقعے کو پاکستان سے جوڑ دیا جاتا ہے، سرحد پار سے دہشت گردی کا مغرب میں کبھی نوٹس نہیں لیا جاتا۔

واضح رہے کہ گذشتہ روز کوئٹہ ، پاراچنار اور کراچی میں دہشت گردوں کی جانب سے بزدلانہ کارروائیاں کی گئی، پارا چنار میں ہونے والے یکے بعد دیگرے بم دھماکوں میں اب تک 45 جاں بحق جبکہ 70 سے زائد زخمی ہوئے ہیں جبکہ کوئٹہ میں ہونے والی دہشت گردی کے نتیجے میں 7 پولیس اہلکاروں سمیت 13 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔

دہشت گردوں کی جانب سے تیسرا حملہ کراچی میں کیا گیا، جہاں نامعلوم مسلح افراد نے روزہ افطارکرنے والے پولیس اہلکاروں پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں اے ایس آئی سمیت 4 پولیس اہلکار جاں بحق ہوئے تھے۔


اگرآپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اوراگرآپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پرشیئرکریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top