The news is by your side.

Advertisement

مریم نواز کی زبان پارٹی کو بند گلی میں لے جا رہی ہے: چوہدری نثار

اسلام آباد: چوہدری نثار کا کہنا ہے کہ مریم نواز کی تندو تیز زبان پارٹی کو بند گلی میں لے جارہی ہے. لطیفے، طنزیہ جملوں سے میری ذات کو مسلسل نشانہ بنایا گیا.

تفصیلات کے مطابق چوہدری نثار نے نواز شریف اور مریم نواز کے بیانات پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ میاں صاحب، احسان کوئی انسان نہیں کرتا، اللہ انسانوں پرکرتا ہے.

ایک سال سے صبر کے ساتھ حالات برداشت کر رہا ہوں، کوشش یہی تھی کہ کسی معاملے پر اس حد تک ردعمل نہ دوں، جس سے پارٹی کو نقصان پہنچے

چوہدری نثار سینئر رہنما، مسلم لیگ ن

انھوں نے کہا کہ میں‌ ایک سال سے صبر کے ساتھ حالات برداشت کر رہا ہوں، کوشش یہی تھی کہ کسی معاملے پر اس حد تک ردعمل نہ دوں، جس سے پارٹی کو نقصان پہنچے، اس لیے خود کو قومی سیاست سے الگ کر لیا تھا، اس کے باوجود میری ذات کو مسلسل نشانہ بنایا گیا.

ان کا کہنا تھا کہ نوازشریف کے شعر، کلمات اور ان کی بیٹی نے انھیں ردعمل دینے پر مجبورکردیا، کچھ نہ بنا تو منظور نظر صحافیوں سے طے شدہ سوالات کروا کر میری تضحیک کی گئی.

انھوں نے کہا کہ کٹھ پتلی کبھی اپنی طاقت پر نہیں ناچتی، اگر مہروں، کٹھ پتلیوں کے الزام جاری رہے، تو مجھے تفصیلی وضاحت کا حق ہے، مریم نوازکے بیانات سے پارٹی بندگلی میں جارہی ہے.

انھوں نے کہا کہ میاں صاحب آپ کو اس مقام پرلانےمیں لوگوں کا بھی احسان ہوگا، آپ کو ان لوگوں کا احسان مند ہونا چاہیے. میرے  دل میں مریم نواز کے خاندان کا آج بھی احترام ہے، اپنے اوپر آج کے بیان کی حد تک پابندی لگائی ہے، اگر مہروں نےالزامات جاری رکھے، تو بھرپور جواب دینے کا حق رکھتا ہوں۔

واضح رہے کہ گذشتہ روز نواز شریف نے چوہدری نثار سے متعلق پوچھے جانے والے سوال کے جواب میں غالب کا ایک شعر سنایا تھا، جس کے جواب میں چوہدری نثار نے اپنے بیان میں منیر نیازی کا شعر کہا:

ادب کی بات ہے ورنہ منیر سوچو تو

جو شخص سنتا ہے وہ بول بھی تو سکتا ہے

یاد رہے کہ نواز شریف اور چوہدری نثار کے درمیان اختلافات شدت اختیار کر چکے ہیں، گذشتہ دنوں سابق وزیر داخلہ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ وہ شہباز شریف کو پارٹی لیڈر مانتے ہیں، اگر مریم نواز پارٹی لیڈر بنیں، تو وہ ن لیگ سے الگ ہوجائیں گے۔


اگر مریم نواز پارٹی لیڈر بنیں، تو ن لیگ سے الگ ہوجاؤں گا: چوہدری نثار


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں