The news is by your side.

Advertisement

ضمیرپربوجھ کے ساتھ نوازشریف کی صدارت کے بل پردستخط کیا، چوہدری نثار

اسلام آباد: سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار نے کہا ہے کہ پارٹی سے ناراض یا نالاں نہیں، اختلاف کیا جو نواز کے لیے سود مند تھا، نواز شریف یا مسلم لیگ ن کو نقصان پہنچانے کا سوچ بھی نہیں سکتا، ن لیگ کی ایک ایک اینٹ لگائی ہے نقصان کیسے پہنچا سکتا ہوں۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا، چوہدری نثار نے کہا کہ گزشتہ ایک سال سے میرا نواز شریف سے اختلاف چل رہا ہے، اختلاف کی بنیاد پر ہی میں نے آزاد حیثیت سے الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا، اس وقت چار نشستوں پر آزاد حیثیت سے الیکشن لڑرہا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ میں اس وقت الیکشن مہم میں ہوں، جعلی خبروں کی وضاحت ضروری ہے، میرے متعلق کوئی خبر پہنچے تو اس کی تصدیق ضرور ہونی چاہئے، کہا تھا کلثوم نواز کی طبیعت کی وجہ سے مخالف باتیں نہیں کروں گا، کبھی نہیں کہا منہ کھولوں گا تو یہ شکل دکھانے کے قابل نہیں رہیں گے، تلخ سے تلخ بات کو بھی برداشت کرتا ہوں۔

چوہدری نثار نے کہا کہ ہم اس وقت الیکشن میں جارہے ہیں، جعلی خبروں کا نقصان ہوگا، ایک جعلی خبر یہ بھی آئی کہ میں نے سیٹ ایڈجسٹمنٹ کرلی ہے، سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے بارے میں ابھی سوچا تک نہیں ہے، میرا کسی جماعت سے رابطہ ہے نہ کسی امیدوار سے ہے۔

سابق وزیر داخلہ نے کہا کہ نواز شریف کو جو دل نے کہا وہ انہیں مشورہ دیا، میں ان لوگوں میں سے نہیں جو ہاں میں ہاں اور جی میں جی کہوں، جو آپ کے دل میں ہے اسے سامنے رکھیں اور میں نے یہی کیا، ان ساری باتوں کی وضاحت بھی ایک پریس کانفرنس میں کروں گا۔

انہوں نے کہا کہ نواز شریف سے اختلافات کے بعد خود کو وزارت سے الگ کرلیا، شیخ رشید کو بھی جواب دیا میں کسی بس کا مسافر نہیں ہوں، شاہد خاقان عباسی کو بھی کہا آپ کے ساتھ اور پارٹی کے ساتھ ہوں، شاہد خاقان کو کہا کابینہ کا حصہ نہیں بنوں گا، بتائیں کون سی قانون سازی ہے جس میں حصہ نہیں لیا، نواز شریف کی صدارت کا بل میرے دل پر بوجھ تھا، دل پر بوجھ کے باوجود نواز شریف کی صدارت کے بل کو ووٹ دیا۔دل پربوجھ کےباوجودنوازشریف کی صدارت کےبل کوووٹ دیا۔

انہوں نے کہا کہ ممبئی حملوں سے متعلق بہت کچھ جانتا تھا جس پر بات بھی کی، ممبئی حملوں کی تحقیقات بھارتی ہٹ دھرمی کی وجہ سے آگے نہ بڑھیں، بہت سی کہانیاں چل رہی ہیں جن پر توجہ دینی چاہئے، اندرونی سطح پر بھی بہت کھیل چل رہے ہیں جو توجہ طلب ہیں۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں