The news is by your side.

Advertisement

چیلینجز بہت زیادہ ہیں، جس کسی کی حکومت بنی، اس سے ہمدردی ہوگی: چوہدری نثار

راولپنڈی: سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار نے کہا ہے کہ انتخابی نشان جیپ لینے کا فیصلہ خود کیا، معلوم نہیں جیپ کے انتخابی نشان کو کیوں اچھالا گیا۔

ان خیالات کا اظہار انھوں نے راولپنڈی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا، انھوں نے وضاحت کی کہ میں‌ کسی جیپ کے گروپ کا حصہ نہیں ہوں.

گروپ بنانا ہوتا تو بہت لوگ موجود تھے، ایک سال پہلے بنا لیتا

چوہدری نثار

چوہدری نثار کا کہنا تھا کہ انتخابی نشان کے لئے کسی سے مشاورت نہیں کی، میرے انتخابی نشان سے متعلق ایک منفی ماحول بنایا گیا.

انھوں نے کہا کہ نہیں جانتا، جیپ کا انتخابی نشان لینے والے کتنے لوگ ہیں، سنا ہے، جنوبی پنجاب کے چند افراد نے شیر کا نشان واپس کرکے جیپ کا نشان لیا، معلوم نہیں جیپ کے انتخابی نشان کو کیوں اچھالا گیا.

چوہدری نثار کا کہنا تھا کہ میری تمام توجہ میرے چار انتخابی حلقوں اور نشان پر ہے، گروپ بنانا ہوتا تو بہت لوگ موجود تھے، ایک سال پہلے بنا لیتا.

انھوں نے کہا کہ کسی کو ملک کے حالات کا، معاشی صورت حال کا احساس نہیں، بھارت اور اتحادی ممالک پاکستان کو ریگستان بنانے پر تلے ہیں، قومی اتفاق رائے کی ضرورت ہے، ملک کومسائل سے نکالنے کے لئے سب کو متحد ہونا ہوگا.

چوہدری نثار کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں‌ جس کی حکومت بنے گی، مجھے اس سے ہمدردی ہورہی ہے، چیلنجز زیادہ ہیں اور ہم باہمی جھگڑوں میں الجھے ہوئے ہیں.

انھوں نے کہا کہ اقتدار کےلئے الیکشن نہیں لڑرہا، کرپشن پر ہاتھ اس وقت تک نہیں ڈالا جاسکتا، جب تک قومی اتفاق رائے نہ ہو، سیاسی جماعتوں کو کرپشن کے خلاف تحقیقات کا طریقہ وضع کرنا ہوگا، جس سے اداروں کا بھی احتساب ہوسکے. کسی بھی سیاسی شخص کوٹارگٹ نہیں کیا جانا چاہیے.

چوہدری نثار نے کہا کہ آزاد حیثیت سے الیکشن لڑنے کا مطلب یہ نہیں کہ ن لیگ چھوڑ دوں گا، نوجوانوں کوسبق ہے سیاست میں ایک پارٹی کے ساتھ رہیں.


شیر نہیں بلی اور بلے والوں کو چیلنج کرتا ہوں، چوہدری نثار


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں