The news is by your side.

Advertisement

اینٹی کرپشن کی کارروائی بدنیتی پر مبنی ہے، چیئرمین انٹر بورڈ

کراچی: چیئرمین انٹر بورڈ اختر غوری کا کہنا ہے کہ اینٹی کرپشن ٹیم کے ساتھ آنے والے اہلکار بورڈ آفس سے کئی امتحانی کاپیاں چھین کر فرار ہوئے ہیں،جس کے باعث اب پورے نتائج مشکوک ہوگئے۔

تفصیلات کے مطابق چیئرمین انٹر بورڈ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ’’گزشتہ چار روز سے اینٹی کرپشن کے اہلکار بورڈ کے ملازمین پر تشدد کررہے ہیں اور انہوں نے مجھے بھی سنگین نتائج کی دھمکیاں دی ہیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ ’’محکمہ اینٹی کرپشن نے رات بھر ملازمین کو یرغمال بنائے رکھا اور وہ اپنے ہمراہ لاکھوں بچوں کی امتحانی کاپیاں لے کر فرار ہوگئے‘‘۔

اختر غوری نے کہا کہ ’’انٹر بورڈ میں چار روز سے جو کارروائی کی جارہی ہے وہ غیر قانونی ہے، اب اینٹی کرپشن کی ٹیم جواب دے گی کہ امتحانی ریکارڈ کہاں ہے؟‘‘، اگر بورڈ میں کوئی مجرم ہے تو اُسے سزا دیں نا کہ پورے بورڈ کو قصور وار ٹھرائیں‘‘۔

پڑھیں :  انٹر بورڈ کراچی پر اینٹی کرپشن کا چھاپہ ، ملازمین نے ہڑتال کردی

انہوں نے بتایا کہ ’’گزشتہ سال 2 لاکھ سے زائد بچوں نے امتحان دیے تھے جن کا مستقبل اب خطر ے میں ہے، جب تک ریکارڈ موصول نہیں ہوجاتا اُس وقت تک رزلٹ تیار نہیں کیا جاسکتا،  اینٹی کرپشن کے اہلکار بچوں کی کاپیاں بوریوں میں بھر کر کے جائیں گے تو کوئی کچھ بھی کہ سکتاہے‘‘۔

چیئرمین بورڈ نے مزید کہا کہ ’’اینٹی کرپشن عملے کی کارروائی بدنیتی پر مبنی ہے اور یہ کراچی کے بچوں سے دشمنی کے مترادف ہے،  نتائج میں تاخیر سے بچوں کا مستقبل تاریک ہوگا جس کی ذمہ دار  اینٹی کرپشن ہوگی‘‘۔

مزید پڑھیں :   انٹر بورڈ آفس میں چھاپہ کھلی مہاجر دشمنی ہے، متحدہ قومی موومنٹ

دوسری جانب اینٹی کرپشن نے گزشتہ روز میڈیا کو آگاہ کیا تھاکہ نتائج میں ردوبدل کے 93 کیس سامنے آئے ہیں جن کے ثبوت حاصل کرتے ہوئے ایک شخص کو گرفتار کرلیا گیا ہے، گرفتار شخص کو  جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں