site
stats
صحت

چکن گونیا وائرس: قومی ادارہ برائے صحت کی ہنگامی ایڈوائزری جاری

اسلام آباد: قومی ادارہ صحت نے چکن گونیا وائرس سے متعلق چاروں صوبوں کو ہنگامی ایڈوائزری جاری کر دی جس میں اس مرض کی علامات بیان جبکہ احتیاطی تدابیر کے حوالے سے اقدامات کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق ملیر میں ہزاروں افراد کے متاثر ہونے اور میڈیا پر خبریں نشر ہونے کے بعد قومی ادارہ صحت کی جانب سے چاروں صوبوں کو ہنگامی ایڈوائزری جاری کردی گئی ہے جس میں اس مرض کی علامات اور احتیاطی تدابیر کے حوالے سے مکمل تفصیلات درج کی گئیں ہیں۔

ایڈوائزری کے مطابق یہ بیماری مچھر کے کاٹنے سے ہوتی ہے اور مچھر صرف دن کی روشنی یا سہ پہر ہی انسان کو کاٹتا ہے، مچھر کی افزائش صاف پانی میں ہی ممکن ہے۔

علامات

ایڈوائزری کی جانب سے پیش کردہ علامات میں کہا گیا ہے کہ ’’مچھر کے کاٹنے کے بعد اس کی علامات چار سے 8دن میں ظاہر ہوتی ہیں جبکہ متاثرہ شخص کو غیرمتواتر بخار، جوڑوں پٹھوں کا درد اور خارش کے ساتھ شدید سردرد ہوتا ہے۔

پڑھیں: ’’ چکن گونیا یا کچھ اور؟ ماہرین تشخیص میں تاحال ناکام ‘‘

ایڈوائزری کے مطابق چکن گونیا کا شکار افراد میں بیماری عموما پیچیدہ نہیں تاہم بوڑھے اور ناتواں افراد یہ شدت کے ساتھ ظاہر ہو سکتی ہے۔ ایڈوائزری کے مطابق چکن گونیا تین فیز پر مشتمل بیماری ہے ، شدید صورت میں مریض کو جوڑوں پر سوجن اور درد کی شکایت ہوتی ہے جبکہ یہ اس بیماری کی شدت مہینوں تک بھی جاری رہ سکتی ہے۔

اس مرض سے بوڑھے افراد،ایک سال سے کم عمر،حاملہ خواتین کو سنگین خطرات ہیں تاہم چکن گونیا کا کوئی مخصوص علاج نہیں اور نہ ہی دنیا میں اس کے علاج کے لیے کوئی ویکسین دریافت ہوئی۔

احتیاطی تدابیر

ماہر ڈاکٹرز پر مشتمل ایڈوائزری نے چکن گونیا سے بچاؤ کی احتیاطی تدابیر میں سب سے پہلے مچھر کی افزائش پر قابو کرنے کی تجویز دی ہے اور عوام کو مشورہ دیا ہے کہ  دن کے وقت آرام کے دوران مچھر دانی کا استعمال کریں۔


مزید پڑھیں: ’’ چکن گونیا کیا ہے؟ علامات اور علاج سے آگاہی حاصل کریں ‘‘


شہریوں کو گونیا مرض سے بچنے کے لیے مچھر بھگاؤ لوش، مچھر کش اسپرے اور جسم کو کپڑوں سے ڈھانپنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top